سےؔ شرم کریں۔ آپ نے صرف ایک آدمی کا پتہ مانگا تھا جو احادیث مختلفہ کی نسبت عرض علی القرآن کا قائل ہو۔ لیکن ہم نے کئی امام اور بزرگوار اس عقیدہ کے رکھنے والے پیش کردیئے۔ مکرر یہ کہ آپ یاد رکھیں کہ شیخ طوسی کا تیس۳۰ سال تک آیت کی طلب و تلاش میں لگے رہنا شیخ کے اس مذہب کو ظاہر کررہا ہے جو اسکا حدیث ترک الصلوٰۃ کے صحت کی نسبت اور پھر تصدیق قرآنی کی ضرورت کی نسبت تھا۔ اگر آپ قرائن موجودہ سے نہیں سمجھیں گے تو اور سمجھنے والے دنیا میں بہت ہیں انہیں کو فائدہ ہوگا۔
قولہ۔ میں قرآن کو امام جانتا ہوں228
اقول۔ یہ سراسر خلاف واقع ہے اگر آپ قرآن کو امام اور ہادی اول جانتے تو آپ کے انکار اور ضد کی یہ نوبت کیوں پہنچتی؟ آپ فرماتے ہیں کہ ’’میرے پر یہ افترا ہے کہ میری نسبت بیان کیا گیا کہ میں قرآن کے امام ہونے کا منکر ہوں‘‘۔ اس آپ کی دلاوری کا میں کیا جو اب دوں خود لوگ معلوم کرلیں گے !۔
قولہ۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔
اقول۔ حضرت کچھ آپ بھی تو ڈر کریں* ۱
قولہ۔ یہ گمان کہ امام بخاری نے دمشقی حدیث کو ضعیف جان کر چھوڑ دیا ہے یہ بات وہ ہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی کبھی گذر نہیں ہوا۔
اقول۔ حضرت آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس کوچہ میں خود گذر نہیں آپ نہیں