قولہؔ ۔ آپ کے ایسے دلائل و اقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل ناآشنائی ہے۔ اقول۔ حضرت مولوی صاحب اس زمانہ میں جو صحیحین اردو میں ترجمہ ہوچکی ہیں فن حدیث کا کوچہ کوئی ایسا دشوارگذار راہ نہیں رہا جس پر خاص طور پر آپ کا ناز زیبا ہو۔ عنقریب زمانہ آنے والا ہے بلکہ آگیا ہے کہ اردو میں حدیثوں کا توغل رکھنے والے اپنی دماغی اور دلی روشنی کی وجہ سے عربی خوان غبی طبع ملاؤں پر ہنسیں گے اور استاد بن کر انہیں دکھائیں گے۔ میں حضرت محض لِلّٰہ آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ اب آپ اپنی علمی نمائش کو کم کردیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک فضیلت تقویٰ میں ہے۔ اس ناحق کی نفسانی خودستائی اور دوسرے کی تحقیر سے حاصل کیا؟ اور طرفہ تر یہ کہ آپ تو میرے پر نادانی اور نالیاقتی کا الزام لگانا چاہتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ وہی الزام لوٹا کر آپ پر نازل کرنا چاہتا ہے۔من اراد ھتک ستراخیہ ھتک اللہ سترہ ان اللہ لایحب کل مختالٍ فخور واللہ بصیرٌ بالعباد ولا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الامن ظلم۔ قولہ۔ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے حدیث کو قرآن پر عرض کرنے کے بارہ میں آپ کی مانند یہ اصول تو نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد ان کی صحت کا امتحان قرآن سے کیا جائے۔ اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن ثابت نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھا جائے۔ اقول۔ تفسیر حسینی کی عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ شیخ محمد ابن اسلم طوسی تیس۳۰ سال تک اس بارہ میں فکر کرتے رہے کہ حدیث ترک صلوٰۃ کی تصدیق جس کا مضمون یہ ہے کہ جو کوئی نماز کو عمداً چھوڑے وہ کافر ہوجاتا ہے قرآن سے ثابت ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ حدیث قانون روایت کے لحاظ سے ان کے نزدیک موضوع ہوتی تو پھر اس کی مطابقت کیلئے قرآن کی طرف توجہ کرنا ایک فضول امر اور بیہودہ کام تھا۔ کیونکہ اگر حدیث موضوع تھی تو پھر اس کا خیال دل سے دفع کیا ہوتا۔ کیا یہ قریب قیاس ہے کہ کوئی دانا ایک حدیث کو موضوع سمجھ کر پھر اس موضوع کی تصدیق کیلئے تیس ۳۰ سال تک اپنا وقت ضائع کرے۔ ظاہر ہے کہ جس حدیث کو پہلے سے موضوع سمجھ لیا پھر اس کی تصدیق قرآن سے طلب کرنا چہ معنے دارد! بلکہ حق اور واقعی بات جو قرائن موجودہ سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو شیخ محمد اسلم طوسی کو اس حدیث کی صحت پر وثوق کامل تھا اور دوسری طرف بظاہر نظر قرآن کے عام تعلیم سے اس کو مخالف پاتا تھا اسلئے اس نے صحیح بخاری کی اس حدیث کے موافق جس میں عرض علی القرآن کا ذکر ہے کتاب اللہ سے اس کی موافقت