گئیؔ ہے جو فاسق کے حکموں میں ہیں۔ جیسا کہ مسلم الثبوت کا حوالہ دے چکا ہوں جس میں صحیحین کی نسبت یہ عبارت ہے۔ لان رواتھما قدریون وغیرھم اھل البدع یعنی بعض راوی مسلم اور بخاری کے قدری اور بدعتی ہیں۔ اب یا حضرت فرمایئے کہ آپ کی ناواقفی ثابت ہوئی یا میری۔ اور اگر آپ کہیں کہ دوسری طرق سے وہ حدیثیں ثابت ہیں تو یہ بار ثبوت آپکے ذمہ ہے کہ من کل الوجوہ پورا مفہوم اور منطوق ان حدیثوں کا دوسری طرق روایت سے ثابت کر کے دکھلاویں۔ تلویح میں لکھا ہے کہ’’ بعض موضوع حدیثیں جو زنا دقہ کا افترا معلوم ہوتی ہیں بخاری میں موجود ہیں‘‘۔ اور امام نووی نے حدیث عباس اور علی کی نسبت جو کہا ہے وہ پہلے لکھ چکا ہوں اور میرا یہ کہنا کہ امکانی طور پر صدور کذب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔ اس اعتراض کا مورد نہیں ہوسکتا کہ امکان کذب کی وجہ سے شہادت رد نہیں کی جاسکتی اور نہ کمزور ہوسکتی ہے کیونکہ امکان دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مترقب الوقوع اور ایک مستبعد الوقوع۔ اس کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک شخص کیلئے جو زمین کھود رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اس زمین سے کسی قدر مال کا دفینہ نکل آوے۔ اور امکان مترقب الوقوع کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک ایسے گھر میں کتا اندر چلا جائے جس میں طرح طرح کے کھانے کھلے کھلے ہوئے ہیں سو ممکن ہے کہ وہ کتا کھانا شروع کرے اسی طرح انسان دو گروہ ہیں ایک وہ جو ذنوب سے آزاد کئے جاتے ہیں اور تقویٰ اور ایمان ان کی محبوب طبیعت کیا جاتا ہے۔ دوسرے وہ گروہ ہیں کہ اگرچہ تکلف سے نیکی کرتے ہیں اور متقی کہلاتے ہیں مگر جذبات نفس سے ایمن اور محفوظ نہیں ہوتے اور اغراض نفسانی کے موقعہ پر پھر پھسلنا انکا امکان ترقبی میں داخل ہوتا ہے کیونکہ اعمال صالح ان کی طبیعت کے جزو نہیں ہوتے- یہ بات شہادتوں میں بھی ملحوظ رہتی ہے۔ اس وجہ سے ایک ایسے گواہ کی شہادت جو فریق ثانی سے جس پر وہ گواہی دیتا ہے سخت عداوت رکھتا ہے اور بالجہر درپے آزار ہے اور فریق اول کا جس کیلئے گواہی دیتا ہے۔ قریبی رشتہ دار اور اس کی حمایت پر اس کو سخت اصرار ہے کمزور بلکہ قابل رد سمجھی جاتی ہے۔ کیوں سمجھی جاتی ہے؟ اسی وجہ سے کہ اس کی دروغگوئی کے بارے میں امکان ترقبی کا احتمال قوی پیدا ہوجاتا ہے۔ اور بوجہ اس امکان کے اس کی گواہی وہ وزن نہیں رکھتی جو قابل ذوی عدل شواہد کی رکھتی ہے۔ اور کسی طور سے پورے اعتماد کے لائق نہیں ٹھہر سکتی۔ خاص کر ایسے زمانہ میں جو فسق اور کذب کا شیوع ہو۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا خوارج اور قدریوں کی شہادت میں بوجہ ان کے مذاہب زائغہ کے دروغگوئی کا امکان ترقبی پیدا ہے یا نہیں؟ اور یہی میرا مطلب تھا۔