سمجھ ؔ کر عمداً ترک کیا ہے کیونکہ جس قدر کمالات قرآنیہ کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ اہل کشف اور اہل باطن پر درحقیقت ظاہر ہوچکے ہیں اور ہوتے ہیں اور حارث کی روایت کی ہر ایک زمانہ میں تصدیق ہو رہی ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ جامع حقائق و معارف اور ہر زمانہ کی بدعات کا مقابلہ کرنے والا ہے۔ اس عاجز کا سینہ اس کی چشم دید برکتوں اور حکمتوں سے ُ پر ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ حارث اس حدیث کے بیان کرنے میں بے شک سچا ہے بلاشبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہماری دائمی فتوحات کیلئے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس قوم کے ساتھ کبھی ہمیں ٹکرا دیا اس قوم پر قرآن کے ذریعہ سے ہی ہم نے فتح پائی وہ جیسا ایک اُمّی دیہاتی کی تسلی کرتا ہے ویسا ہی ایک فلسفی معقولی کو اطمینان بخشتا ہے یہ نہیں کہ وہ صرف ایک گروہ کیلئے اترا ہے دوسرا گروہ اس سے محروم رہے۔ بلاشبہ اس میں ہر یک شخص اور ہریک زمانہ اور ہریک استعداد کیلئے علاج موجود ہے۔جو لوگ معکوس الخلقت اور ناقص الفطرت نہیں وہ قرآن کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔ جس حارث کے منہ سے ہمارے پیارے قرآن کی یہ تعریفیں نکلیں َ میں تو اس منہ کے قربان ہوں۔ آپ اس کو دجال سمجھیں تو آپکا اختیار ہے۔ کل احد یوخذ من قولہ ویترک۔
رہی یہ بات کہ آپ نے میر انام چور رکھا تو میں اپنا اور آپکا فیصلہ حوالہ بخدا کرتا ہوں۔ اگر قرآن کیلئے میں چور کہلاؤں تو میری یہ سعادت ہے ۔یہ تو ایک لفظ کی کمی کا نام سرقہ رکھا گیا ہے۔ لیکن خدا وند کریم بہتر جانتا ہے کہ اس واقعی سرقہ یا اس کی اعانت کا مرتکب کون ہے۔ جس کے ارتکاب سے ایک درم کی مالیت پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ فتفکر فی سر ھذا الکلام واخش اللہ المحاسب العلام۔
قولہ۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سی بری ہیں۔ سو آیت پیش کرنا جب کوئی فاسق خبر لاوے تو اس کی تفتیش کرو۔ آپ کی ناواقفی پر ایک دلیل ہے۔
اقول۔ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں پر تہمت اہل بدع ہونے کی کی
بجمع من قتلے احد ثم یقول ایھما احفظ للقرآن فاذااشیرلہ الی احد ھما قدمہ فی اللحد( بخاری صفحہ۱۰۰) اللہ اللہ! آپ نے کس قدر رعایت اور عزت قرآن کی کی ہے۔ ایڈیٹر