اموؔ ر زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلوکے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں۔ فتدبّر۔ قولہ۔ حدیث حارث اعور کی صحیح نہیں ہے اور یہ اعور بھی ایک دجال ہے۔ اقول۔ افسوس کہ دجال کی حدیث اب تک مشکوٰۃ اور دوسری مقدس کتابوں میں درج ہوتی چلی آئی۔ آپ جیسے کسی بزرگ نے اس پر قلم نسخ نہ پھیرا۔ جس حالت میں وہ حدیث صریح جھوٹی ہے اور اسکا راوی دجال ہے! تو وہ کیوں نہیں خارج کی جاتی؟ میں نہیں جانتا کہ خبیث کو طیب سے کیا علاقہ ہے! مگر اس حدیث کی ترک سے ہمارا کچھ نقصان نہیں۔ اس مضمون کے قریب چند حدیثیں بخاری میں بھی ہیں جیسا کہ کسی قدر تبدیل یا کمی بیشی الفاظ سے یہ حدیث بخاری میں موجود ہے۔انی ترکت فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلواکتاب اللہ و سنتی*اور آپ سرقہ کا مجھ کو الزام دیتے ہیں حالانکہ میں نے فی الحارث مقال کے لفظ کو ایک حرج بے ہودہ اس حدیث کی ہم معنی جو حدیثیں بخاری میں موجود ہیں از انجملہ ایک وہ حدیث ہے جو بخاری کی کتاب الاعتصام میں لکھی ہے اور وہ یہ ہے وھذا الکتاب الذی ھدی اللہ بہ رسولکم فخذوابہ تھتدوا۔ ازاں جملہ یہ حدیث ہے و کان وقّافًا عند کتاب اللہ صفحہ ۱۷۹ از انجملہ یہ حدیث ہے ما عندنا شیء الا کتاب اللّٰہ ۔ ازانجملہ یہ حدیث ہے ماکان من شرط لیس فی کتاب اللّٰہ فھو باطلٌ قضاء اللّٰہ احق۔ صفحہ ۳۷۷ ۔ ازانجملہ یہ حدیث ہے! ا وصی بکتاب اللّٰہ ۷۵۱۔ازانجملہ یہ حدیث ہے جو بخاری کے صفحہ ۱۷۲ میں ہے کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ زخم کاری سے مجروح ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے ان کے پاس گئے کہ ہائے میرے بھائی۔ ہائے میرے دوست۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے صہیبؓ مجھ پر تو روتا ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اسکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے پھر حضرت عمرؓ وفات پا گئے تو حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب حال حدیث پیش کرنے کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکو سنایا تو انہوں نے کہا کہ خدا عمر پر رحم کرے بخدا کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا بیان نہیں فرمایا کہ مومن پر اسکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے اور فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے۔ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ نے باوجود محدود علم کے فقط اسلئے قسم کھائی کہ اگر اس حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں کہ خواہ نخواہ ہر ایک میت اسکے اہل کے رونے سے معذب ہوتی ہے تو یہ حدیث قرآن کے مخالف اور معارض ٹھہرے گی اور جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔ کان النبی صلعم بین رجلین