عرضؔ کر لینا چاہئے۔ اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور مؤ یّد دے دیاہے جو قابل تغیر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی جو اسکے مخالف ہے۔ لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤ یّدہ اور ناقابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے صحیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔ غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے۔ جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادا ن ہے۔بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثلہ سے آپکے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپکو معلوم نہیں کہ وحی متلوکا خاصہ ہے جو اسکے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی۔
اول۔ مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ گویا خبر کو معائنہ کردیتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔ اور ان گزشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی بہت سی معاد کی خبریں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔ تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہوجائے۔
دوئم۔ وحی متلوکے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رؤ یا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جو رؤیا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تاکشف اور رؤیا اور وحی بباعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔
سوئم۔ وحی متلوکے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تفہیمات الٰہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔ اس وحی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلوکے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے أُوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر ہٰذا صاحب تجربہ* ہے یہ مؤیدات ثلثہ یعنی کشف اور ر ؤیا اور وحی خفی دراصل
مولوی صاحب ایسے ولی اللہ کے مقابلہ کیلئے آپ نے کمر کسی ہوئی ہے! مولوی صاحب اہل ظن اور صاحب یقین برابر نہیں ہوسکتے۔ وقت ہے۔ باز آجایئے۔ ورنہ دانت پیسنا اور رونا ہوگا۔ ایڈیٹر