ایسیؔ شتاب کاری سے احتیاط رکھیں ؂ پشیمان شو ازاں عجلت کہ کردی قولہ۔ امام شعرانی سے منہج المبین میں لکھا ہے اجمعت الامۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللّٰہ۔ اقول۔ اجماع کا حال آپ معلوم کرچکے ہیں کہ امام مالک نے خبر واحد پر قیاس کو مقد م رکھا ہے۔ چہ جائیکہ آیت اللہ اس پر مقدم ہو۔ اور حنفیہ کے نزدیک احادیث اگر قرآن کے مخالف ہوں تو سب متروک ہیں اور امام مالک کے نزدیک حدیث متواتر بھی کتاب اللہ کی مخالفت کی حالت میں ہیچ ہے۔ پھر جبکہ یہ ائمہ جنکے کروڑہا لوگ مقتدی اور پیرو ہیں یہ فیصلہ دیتے ہیں تو اجماع کہاں ہے؟ قولہ۔ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں۔ اقول۔ حضرت وہ تو دراصل بقول صاحب تلویح بخاری کی حدیث *ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی تلویح کی عبارت نقل کرچکے ہیں پھر کیا بخاری بھی موضوعات سےُ پر ہے؟ اور اگر کہو کہ وہ آیت اللہ ۱؂ سے مخالف ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز مخالف نہیں مااتکم الرسول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں۔ اول یہ تو دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی حدیث فی الواقع مااتاکم میں داخل ہے یانہیں۔ مااتاکم میں تو وہ داخل ہوگا جسکو ہم شناخت کرلیں کہ درحقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے مااتاکم میں اس کو داخل کردیں؟اور یہ حدیث تو بخاری میں بقول تلویح موجود ہے نہ بھی ہو منشاء قرآن کے تو مطابق ہے اور ائمہ ثلٰثہ نے قریباً اسی کے مطابق اپنا اصول فقہ قائم رکھا ہے تو پھر اسکو کیوں قبول نہ کریں؟ اور اگر یزید بن ربیعہ کا اس کے راویوں میں سے ہونا اس کو ضعیف کرتا ہے تو ایسا ہی قرآن کے منشاء سے اس کا مطابق ہونا اسکے ضعف کو دور کرتا ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۲؂ یعنی بعد اللہ جلّ شانہٗ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر * ہم اس سے پہلے ایک نوٹ میں لکھ آئے ہیں کہ موجودہ مطبوعہ نسخ بخاری میں باللفظ یہ حدیث مذکور نہیں۔ نہ سہی نقاد بصیر سمجھ سکتا ہے کہ صحاح میں اس معانی کی مؤ یّد و شاہد احادیث وارد ہیں تو کیا حرج ہے۔ اگر ان لفظوں میں بخاری کے اندر یہ حدیث نہ ہو۔ لفظوں سے اتنا تعرض کرنے کی کیا جگہ ہے۔ کیا نفس الامر میں یہ مضمون صحیح نہیں کہ صرف کتاب اللہ کی موافقت و مخالفت حدیث کے قبول و ردّ کی معیار ہوسکتی ہے؟ قرآن اسی کا شاہد ہے ائمہ ثلاثہ کا مذہب بھی یہی ہے تو پھر بایں الفاظ صد بار نہیں ہزار بار ایک کتاب بخاری میں نہ ہو! ایڈیٹر