تو ؔ میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپکے کمالات کا قائل ہوجاؤں گا اور اپنا مغلوب اور شکست یافتہ ہونا قبول کرلوں گا اور بباعث اس کے جو مجھ سے پچیس روپیہ بطور تاوان لئے جائیں گے۔ آپ کے کمالات حدیث دانی کے بخوبی نقش قلوب ہوجائیں گے اور ہمیشہ صفحہ روزگار میں عزت کے ساتھ یادگار رہیں گے لیکن اس میں انتظام یہ چاہئے کہ تین منصف بتراضی فریقین مقرر کئے جائیں جو فہم تقریر اور وزن دلائل کا مادہ رکھتے ہوں اور فریقین سے کسی قسم کا تعلق ان کو نہ ہو۔ نہ رشتہ۔ نہ مذہب۔ نہ دوستی اور اگر من بعد تعلق ثابت ہوتو وہ فیصلہ فسخ کیا جائے ورنہ فیصلہ ناطق قرار دے کر بحالت غالب ہونے پچیس روپیہ آپکے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن منصفوں کی آزمائش لیاقت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اخیری روبکار کی طرح فیصلہ تحریری بوجوہات شافیہ قلمبند کرکے فریقین کو جلسہ عام میں سنادیں اور ادلہ قطعیہ سے اس فریق کا غالب ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کریں۔ جس کو اپنی رائے میں انہوں نے غالب سمجھا ہے یہ شرائط کچھ مشکل نہیں ہیں۔ ایسی لیاقت کے بہت آدمی ہیں بالخصوص ایسے حکام جن کو ہر وقت فیصلجات دینے کی مشق ہے اور ثابت اور غیر ثابت میں تمیز کرنے کا ملکہ ہے بڑی آسانی سے منصفی کیلئے پیدا ہوسکتے ہیں اور اگر آپ کو منصفوں کے فیصلہ کی نسبت پھر بھی کچھ دل میں دھڑکا رہے تو منصفوں کیلئے حلف کی قید بھی لگا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ میری اس درخواست سے گریز کریں گے تو پھر بلاشبہ آپکے وہ سب دعاوی فضول قرار پاکر وہ تمام توہین و تحقیر اور ہتک کی باتیں جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی تحریرات میں خود نمائی کی غرض سے کی ہیں آپ پروارد سمجھی جائیں گی۔ تحریر کے ذریعہ سے ایک ہفتہ تک آپ اس کا جواب دیں۔ قولہ۔ اگر صرف قرآن سے مضمون کسی حدیث کا موافق ہونا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں۔ اقول۔ حضرت یہ آپ نے میری کس عبارت سے نکالا ہے کہ میں قانون روایت محدثین کو بے مصرف اور فضول خیال کر کے اول حالت سے ہی ہریک بے سند قول کیلئے تصدیق قرآن کریم کو حدیث بنانے کیلئے اور یحییٰ علیہ السلام کے حق میں فرماتا ہے ۱؂ پس اگر یوم تولد مس شیطان کا یوم ہے تو سلام کا لفظ جو سلامتی پر دلالت کرتا ہے کیونکر اس پر صادق آسکتا ہے۔ پھر علامہ زمخشری نے تاویل کی ہے کہ اگر مریم اور ابن مریم سے مراد خاص یہی دونو نہ رکھے جائیں بلکہ ہر ایک شخص جو مریم اور ابن مریم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اس کو بھی مریم اور ابن مریم ہی قرار دیا جاوے تو پھر اس حدیث کے معنے بلاشبہ صحیح ہوجائیں گے۔ فافہم و تدبر۔ ایڈیٹر