کافیؔ جانتا ہوں۔ اگر میرا یہی مذہب ہوتا تومیں کیوں کہتا کہ میں ظنی طور پر صحیحین کو صحیح سمجھتا ہوں اور جن حدیثوں کے ساتھ تعامل کا سلسلہ قرناً بعد قرنٍ پایا جاتا ہے۔ ان کو نہ صرف ظنی بلکہ حسب مراتب تعلق تعامل قطعیت کے رنگ سے رنگین خیال کرتا ہوں!۔ اور اگرچہ میں دوسرے حصہ احادیث کو ظنی طور پر صحیح خیال کرتا ہوں لیکن اگر ان کی صحت پر قرآن کی شہادت ہے تو وہ صحت ظن قوی ہوجاتا ہے۔ مگر جب کہ قرآن کریم صریح اس کے مخالف ہو اور تطبیق کی کوئی راہ نہ ہو تو میں ایسی حدیث کو جو حصہ دوم کی قسم میں سے ہے قبول نہیں کرتا کیونکہ اگر میں قبول کر لوں تو پھر قرآن کی خبر کو مجھے منسوخ ماننا پڑے گا۔ مثلاً قرآن نے خبر دی ہے کہ سلیمان داؤد کا بیٹا تھا اور اسحاق ابراہیم کا اور یعقوب اسحاق کا۔ اب اگر کوئی حدیث اس کے مخالف ہے اور یہ بیان کرے کہ داؤد سلیمان کا بیٹا تھا اور ابراہیم لاولد تھا میں کیونکر سمجھ لوں کہ جو کچھ قرآن نے فرمایا تھا وہ منسوخ ہوگیا ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ تاریخی واقعات اور اخبار وغیرہ پر ہرگز نسخ وارد نہیں ہوتا ورنہ اس سے خدا تعالیٰ کا کذب لازم آتا ہے! سو میں یہ تو نہیں کہتا کہ صحت حدیث کیلئے قانون روایت کی حاجت نہیں۔ ہاں یہ میں ضرور کہتا ہوں کہ جب اس قانون کے استعمال کے بعد کوئی روایت حدیث نبوی کے نام سے موسوم ہو۔ پھر اگر وہ احادیث کے حصہ دوم میں سے ہے تو اس کی تکمیل صحت کیلئے یہ ضروری ہے کہ تصریحات قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ قولہ۔ جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن کریم اپنا آپ مفسر ہے حدیث اسکی مفسر نہیں۔ اس سے بھی آپکی ناواقفیت اصول اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔ اقول۔ اے حضرت آپ نے اس قدر افتراؤں پر کیوں کمر باندھ لی ہے میں نے کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ حدیث قرآن کی مفسر نہیں۔ میں نے تو بحوالہ آیت اس قدر بیان کیا ہے کہ اول مفسر قرآن کا خود قرآن ہے پھر بعد اسکے نمبر دوم پر حدیث مفسر ہے اس سے میرا یہ مطلب تھا کہ حدیث کی تفسیر دیکھنے کے وقت قرآن کی تفسیر نظر انداز نہ ہو اور اگر کوئی ایسا مسئلہ جو حدیث کے دونوں حصوں میں سے حصہ دوم میں داخل ہو یعنی اخبار و واقعات وغیرہ میں سے جس سے نسخ معلوم نہیں ہوسکتا اور نہ اس پر زیادت متصور ہے تو ایسی صورت میں کسی مجمل آیت کی وہ تفسیر مقدم اور قابل اعتبار ٹھہرے گی جو قرآن نے آپ فرمائی ہے اور اگر حدیث کی تفسیر اس تفسیر کے مخالف ہو تو قبول کے لائق نہیں ہوگی۔ قولہ۔ آیت ۱؂ صاف دلالت کرتی ہے کہ قرآن میں صرف یہ چند چیزیں حرام کی گئی ہیں۔ لیکن حدیث کے رو سے گدھا اور درندے بھی حرام کردیئے گئے۔