کوؔ بھی حدیث دانی میں آپ سے کچھ نسبت نہیں۔ اسلئے بقول سعدی ؒ ندارد کسے باتو ناگفتہ کار ولیکن چوگفتی دلیلش بیار چاہتا ہوں کہ چھ سات حدیثیں بخاری اور مسلم کی یکے بعد دیگرے جن میں میری نظر میں تعارض *ہے آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ اگر آپ ان میں توفیق و تالیف امام ابن خزیمہ کی طرح کر دکھائیں گے * مولوی صاحب لیجئے۔ سردست کسی قدر تعارض کا نمونہ یہ عاجز پیش کرتا ہے۔ موقع ہے۔ موقع ہے۔ اپنی حدیث دانی کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کیجئے۔(۱) معراج کی حدیث بروایت شریک کے حاشیہ پر فتح الباری کی یہ عبارت لکھی ہے۔ قال النووی جاء فی روایۃ شریک اوہام انکرہا العلماء من جملتہاانہ قال ذالک قبل ان یوحی الیہ و ھو غلط لم یوافق علیہ احد و ایضا اجمعوا علی ان فرض الصلٰوۃ کانت لیلۃ الاسراء فکیف یکون قبل الوحی- و قول جبرائیل فی جواب بواب السماء۔ اذ قال ابعث؟ نعم۔ صریح فی انہ کان بعد البعث۔ترجمہ۔ نووی کہتا ہے کہ شریک کی روایت میں کتنے وہم ہیں جن پر علماء نے اعتراض کیا ہے ازاں جملہ ایک یہ کہ شریک کی روایت میں قبل ان یوحی الیہ لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج بعثت سے پہلے ہوئی اور یہ صریح غلط ہے جس پر کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ علاوہ اسکے علماء اس پر اتفاق کرچکے ہیں کہ نمازیں معراج کی رات میں فرض کی گئی تھیں! پھر قبل از وحی کیونکر فرض ہوسکتیں تھیں!! اور عجب تر اس حدیث میں یہ تعارض ہے کہ حدیث کے سر پر تو یہ لکھا ہے کہ قبل از بعثت و نبوت معراج ہوئی اور پھر آئندہ عبارتیں حدیث کی اپنی صریح منطوق سے ظاہر کررہی ہیں کہ یہ معراج بعد از بعثت ہوئی اور اسی حدیث میں نمازوں کی فرضیت کا ذکر بھی ہے سو یہ حدیث کتنے تعارض سے بھری ہے۔(۲) پھر بخاری کی کتاب التفسیر صفحہ ۶۵۲ میں ایک حدیث ہے جس کی یہ عبارت ہے۔ مامن مولود یولد الا والشیطان یمسہ فیستہل صارخامن مس الشیطان ایاہ الامریم وابنہا یعنی کوئی ایسا بچہ نہیں جو پیدا ہوا اور پیدا ہونے کے ساتھ شیطان اس کو نہ چھو جائے اور وہ بوجہ شیطان کے چھونے کے چیخیں نہ مارے بجز مریم اور اس کے بیٹے کے جاننا چاہئے کہ یہ حدیث صفحہ ۷۷۶ کی حدیث سے معارض پڑتی ہے اور شارح بخاری صفحہ ۶۵۲ کی حدیث کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ زمخشری کو اس حدیث کی صحت میں کلام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے معارض ہے وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ اس آیت سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ بغیر خصوصیت مریم اور ابن مریم کے تمام عباد مخلصین مس شیطان سے محفوظ رکھے جاتے ہیں