قولہؔ ۔ محقق مسلمان حنفی ہو یا شافعی مقلد ہو یا غیر مقلد تصحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھہراتا۔
اقول۔ اس بات کا جواب ابھی مفصل گزر چکا ہے کہ علماء مذاہب ثلاثہ نے احاد حدیث کو گو وہ بخاری کی ہوں یا مسلم کی اس شرط سے قبول کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے معارض اور مخالف نہ ہوں تلویح کی عبارت ابھی میں نے سنائی آپ کو یاد ہوگی کہ جس حالت میں ائمہ ثلاثہ ان حدیثوں سے جو احادہیں اور مخالف قرآن ہیں خدمت نہیں لیتے اور معطل کی طرح چھوڑ دیتے ہیں تو اگر وہ قرآن کریم کو معیار قرار نہیں دیتے تو حدیثوں کو اس کی مخالف پا کر کیوں چھوڑتے ہیں۔ کیا معیار ماننا کچھ اور طور سے ہوتا ہے؟ جب کہ ان لوگوں نے یہ اصول ہی ٹھہرالیا ہے کہ خبر واحد بحالت مخالفت قرآن ہر گز قبول کے لائق نہیں گو اسکا راوی مسلم ہو یا بخاری ہو تو کیا اب تک انہوں نے قرآن کریم کو معیار قبول نہیں کیا؟اتقوا اللہ ولاتغلوا!
قولہ۔ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے لااعرف انہ روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیثان باسنادین صحیحین متضادین فمن کان عندہ فلیاتینی بہ لالّف بینھمایعنی امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے کہ میں ایسی دو حدیثوں کو شناخت نہیں کرتا جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کی گئی ہوں اور پھر متضاد ہوں اگر کسی کے پاس ایسی حدیثیں ہوں تو میرے پاس لاوے َ میں ان میں تالیف کردوں گا۔
اقول۔ امام ابن خزیمہ تو فوت ہوگئے اب ان کے دعویٰ کی نسبت کچھ کلام کرنا بے فائدہ ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے مضمون کے سنانے کے وقت بڑے جوش میں آکر فرمایا تھا کہ ابن خزیمہ تو امام وقت تھے میں خود دعویٰ کرتا ہوں کہ دو متعارض حدیثوں میں جو دونو صحیح الاسناد تسلیم کی گئی ہوں توفیق و تالیف دے سکتا ہوں اور ابھی دے سکتا ہوں؟ آپکا یہ دعویٰ ہر چند اس وقت ہی فضول سمجھا گیا تھا لیکن برعایت شرائط قرار یافتہ مناظرہ اس وقت آپ کی تقریر میں بولنا ناجائز اور ممنوع تھا۔ چونکہ آپ کی خودستائی حد سے گذر گئی ہے اور عجز و نیاز اور عبودیت کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا اور ہر وقت انا اعلم کا جوش آپکے نفس میں پایا جاتا ہے اسلئے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی دعویٰ کے رو سے آپ کے کمالات کی آزمائش کروں جس آزمائش کے ضمن میں میری اصل بحث بھی لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ میں بالطبع اس سے کارہ ہوں کہ کسی سے خواہ نخواہ آویزش کروں لیکن چونکہ آپ دعویٰ کر بیٹھے ہیں اور دوسروں کو تحقیر اور ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ آپکے خیال میں امام اعظم ؒ