اورؔ خفت اور لاعلمی ظاہر کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ مجھے بعض ملاؤں کی طرح لوگوں کی مدح وثنا کی طرف خیال نہیں اور نہ عوام کی تحسین ونفرین کی کچھ پروا۔ ہریک دانا بلکہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ صحیح بخاری کی حدیثیں امام محمد اسمٰعیل کا اپنا ایجاد تو نہیں تایہ اعتراض ہوکہ جب تک کوئی متقدمین سے امام بخاری کا زمانہ نہ پاتا اور انکی کتاب کو نہ پڑھتا تب تک محال تھا کہ ان حدیثوں پر اس کو اطلاع ہوتی بلکہ حدیثوں کے رواج اور زبانی شیوع کا زمانہ اسی وقت یعنی قرن اول سے شروع ہوا ہے جب کہ امام بخاری صاحب کے جدامجد بھی پیدا نہیں ہوئے ہوں گے تو پھر کیا محال تھا کہ وہ حدیثیں جن کی تبلیغ کی صحابہ کو تاکید تھی امام اعظم ؒ کو نہ پہنچتیں بلکہ قریب یقین کے یہی ہے کہ ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ ان کا زمانہ قرن اول سے قریب تھا اور بہت حفاظ حدیث کے زندہ تھے اور خاص اسی ملک میں رہتے تھے جو سرچشمہ حدیث کا تھا۔ پھر تعجب کہ بخاری ؒ جو زمانی اور مکانی طور پر امام اعظم صاحب سے کچھ نسبت نہیں رکھتے تھے ایک لاکھ حدیث صحیح اکٹھی کرلیں۔ اور ان میں چھیانوے ہزار صحیح حدیث کو ردی مال کی طرح ضائع کردیں۔ اور امام اعظم صاحب کو باوجود قرب زمان اورمکان کے سو حدیث بھی نہ پہنچ سکے۔ کیا کسی کا نور قلب یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک شخص بخارا کا رہنے والا جو بہت دور حدود عرب سے اور نیز دو سو برس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پیدا ہو وہ لاکھ حدیث صحیح حاصل کرلے اور امام اعظم صاحب جیسے بزرگوار فانی فی سبیل اللہ کو نماز کے بارہ میں بھی دو چار صحیح حدیثیں باوجود قرب زمان اور مکان کے نہ مل سکیں! اور ہمیشہ بقول مولوی محمد حسین صاحب کے اٹکلوں سے کام لیتے رہے! اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابوحنیفہ ؒ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدرُ سبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحراعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابوحنیفہؒ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا خداتعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔