دنوں تک اس لئے ٹھہرا لیا ہے کہ تا پھر بھی ان مبارک دنوں میں وقتاً فوقتاً آپ کے لئے دعائیں کی جائیں۔ مجھے ایسا الہام کسی امر کی نسبت ہو تو میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ وہ ہونے والا ہے۔ اللہ جل شانہ طاقت سے زیادہ کسی پر بار نہیں ڈالتا بلکہ رحم کے طور پر تخفیف کرتا ہے اور ہنوز انسان پورے طور پر اپنے تئیں درست نہیں کرتا کہ اس کی رحمت سبقت کر جاتی ہے گویا نیک بندوںکے لئے یہ بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ جل شانہ بے نیاز ہے نہ کسی کی اس کو حاجت ہے اور نہ کسی کی بہتری کی اس کو ضرورت ہے اس لئے جب…… فرماتا ہے کہ کسی بندہ پر فیضان نعمت کرے تو ایسے وسائل پیدا کردیتا ہے جس کی رُو سے اس نعمت کے پانے کے لئے اس بندہ میں استحقاق پیدا ہو جائے تب وہ بندہ خدا تعالیٰ کی نظر میںجوہر قابل ٹھہر کر مورد رحم بننے کیلئے لیاقت پیدا کر لیتا ہے سو اس خیال سے بے دل نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کیونکر باوجود اپنی کمزوریوں کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ بجا لاسکتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کو راضی کر سکیں اورہرگزخیال نہیں کرنا چاہئے کہایسی شرط تعلیق بالمحال ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو جن کیلئے خیر کا ارادہ فرماتا ہے آپ توفیق دے دیتا ہے۔ مثل مشہور ہے ہمت مرداں مدد خدا سو نیک کاموں کیلئے بدل وجان جہاں تک طاقت ہے متوجہ ہوناچاہئے۔ خداتعالیٰ کو ہر ایک چیز اور ہر ایک حال اور ہر ایک شخص پر مقدم رکھ کر نماز باجماعت پڑھنی چاہئے کہ قرآن کریم میںبھی جماعت کی تاکید ہے۔ اگر نانفراد نماز پڑھنا کافی ہوتا تو اللہ جلشانہٗ یہ دعا سکھلاتا کہ اھدنا الصراط المستیم بلکہ یہ سکھاتا اھدنی الصراط المستقیم اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ کونوا مع الصادقین… مع الراکعین اور واعتصموا بحبل اللّٰہ جمعیا ان تمام آیات میں جماعت…… سو اللہ جلشانہٗ کے احکام میں کسی سے شرم نہیںکرنا چاہئے۔ تقویٰ کے یہ معنی ہیں کہ اس …… قائم ہو جائے کہ پھر اس کے مقابل پر کوئی ناموس یا ہتک یاعار یا خوفِ خلق یا کسی کے لعن و طعن کی کچھ حقیقت نہ رکھے۔ ایمان تقویٰ کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری چیز کو یا کسی دوسرے