خیال کو کچھ حقیقت سمجھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ تقویٰ کے شعار سے بالکل بے بہرہ ہوتا ہے۔ ہمارے لئے کامل خدا بس ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد نوٹ از مرتب: مجھے اس کی نقل دیکھنے کا موقعہ ملا ہے جس پر مرقوم ہے کہ اصل مکتوب جس جس جگہ دریدہ ہے وہاں نقطے ڈال دئے گئے ہیں۔ اس الہام کوخاکسار ہی کو پہلی بار شائع کرنے کی توفیق ملی ہے اس سے قبل لٹریچر میں موجود نہ تھا فالحمدللّٰہ ذٰلک الہام کے بعد جو حصہ مکتوب کا دریدہ ہے وہ الہام کے ترجمہ کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۳ ۶۶ محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔ اس وقت صرف ایک اشتہار دو ہزار روپیہ جو شائع کیاگیاہے آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں اور دوسرے امور میںپھر کبھی انشاء اللہ القدیر مفصل خط لکھوں گا۔ حاجی سیٹھ عبدالرحمن نے تار کے ذریعہ سے مجھ کو خبر دی کہ میں مخالف کی درخواست پر ایک ہزار روپیہ بلاتوقف دے دوں گا اور امید ہے کہ وہ دو ہزار روپیہ بھی قبول کر لیں گے۔ ورنہ یقین ہے کہ ایک ہزار روپیہ مولوی حکیم نورالدین صاحب دے دیں گے چنانچہ اس بارے میں مولوی صاحب کا خط بھی آ گیا ہے۔غرض بہرحال دو ہزار روپیہ کا ایسا بندوبست ہو گیا ہے کہ بمجردّ درخواست آتھم صاحب بلاتوقف دیاجائے گا چونکہ پیشگوئی کے دو پہلو تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے پر اپنے صریح الہام سے ظاہر کر دیا ہے کہ آتھم نے خوف کے ایام میں اسلام کی طرف رجوع کیا۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اب وہ اپنے رجوع پر قائم نہیں کیونکہ دونوں فریق کی کتابوں سے یہ ثابت ہے کہ عادۃ اللہ اسی طرح پر واقع ہے کہ جب کوئی خوف کے وقت میں اپنے دل میں حق کو قبول کر لے یا حق کے رُعب سے خوفناک ہو جائے تو اُس سے عذاب ٹل جاتا ہے گو وہ فرعون کی طرف خوف دور ہونے کے بعد پھر سرکشی ظاہر کرے۔ غرض