بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۲/۶۵ ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ء
محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
آپکے دو عنایت نامے پہنچے یہ عاجز بباعث شدت کم فرصتی و علالت طبع جواب نہیں لکھ سکا اور نیز یہ بھی انتظار رہا کہ کوئی بشارت کھلے کھلے طور پر پا لینے سے خط لکھوں چنانچہ اب تک آپ کے لئے جہاں تک انسانی کوشش سے ہو سکتا ہے توجہ کی گئی اور بہت سا حصہ وقت کا اسی کام کے لئے لگایا سو ان درمیانی امور کے بارے میں اخویم مرزا خدا بخش صاحب اطلاع دیتے رہے ہوں گے اور آخر بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہوا وہ یہ تھا اِنَّ اللّٰہ عَلی کُل شئی قَدیْر۔ قل قوموا لِلّٰہ فانتین یعنی اللہ جلشانہٗ ہر یک چیز پر قادر ہے کوئی بات اس کے آگے اَن ہونی نہیں انہیں کہہ دو…… جائیں اور یہ الہام ابھی ہوا ہے اس الہام میں جو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادہ الٰہی آپ کی خیر اور بہتری کے لئے مقدر ہے لیکن وہ اس بات سے وابستہ ہے کہ آپ اسلامی صلاحیت اور التزام صوم و صلوٰۃ و تقویٰ و طہارت میں ترقی کریں۔ بلکہ ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امر مخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کے لئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں مجھے تو اس بات کے معلوم کرنے سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس میں آپ کی کامیابیوں کے لئے کچھ نیم رضا سمجھی جاتی ہے اور یہ امر تجربہ سے ثابت ہو گیاہے کہ اس قسم کے الہامات اس شخص کے حق میں ہوتے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ ارادۂ خیر فرماتا ہے۔ اس عالم سفلی میں اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی معزز عہدہ کا خواہاں ہو…… وقت اس کو اس طور… دے کہ تم امتحان دو ہم تمہارا کام کر دیں گے۔ سو خدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کے دوسرے اقارب میں ایک صریح امتیاز دیکھنا چاہتا ہے اور چونکہ آپ کی طبیعت بفضلہ تعالیٰ نیک کاموں کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے اس لئے یہی امید کی جاتی ہے کہ آپ اپنے مولیٰ کریم کو خوش کریں گے۔ میں نے مرزا خدا بخش صاحب کو رمضان کے