بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۱ /۶۴
محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
کل عنایت نامہ پہنچ کر اس کے پڑھنے سے جس قدر دل کو صدمہ پہنچا اللہ تعالیٰ جانتاہے لیکن پھرخدا تعالیٰ کی یہ آیت یاد آئی کہ لاتیئسوُا مَنْ رَّوح اللّٰہ اِنَّہُ لایئیسُ مَنْ رَّوْح اللّٰہ اِلاَّ القوم الکفرون۔ یعنی خدا کی رحمت سے نومیدمت ہو کہ نومید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔ میںجانتا ہوں کہ یہ دن تمام دنیا کے لئے ابتلاء کے ہیں۔ آسمان پر بارش کا نشان نہیں اس لئے زمینداروں کی حالت زوال کے قریب ہو رہی ہے اور ایک ایسے رئیس جن کی تمام جمیعت زمینداری آمدنی پر موقوف ہے وہ بھی سخت خطرہ میں ہیں لیکن پھر بھی یہ فقرہ بہت مضبوط ہے خداداری چہ غم داری۔ ہمت مردانہ رکھنا چاہئے۔ بڑے بڑے بادشاہ ہیں جو اسلامی بادشاہ ہوئے ہیں کبھی سخت سرگردانی میں پڑے اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسری حالت سے پہلی اچھی ہوگئی۔ میں آپ کے لئے انشاء اللہ القدیر اس قدر دعا کرنا چاہتا ہوں جب تک صریح اور صاف لفظوں میں خوشخبری پاؤں۔ آپ تسلی رکھیں اور میرے نزدیک آپ کو قادیان میں آنے سے کوئی بھی روک نہیں ہرگز مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کمشنر صاحب کو پوچھیں اور اُن سے اجازت چاہیں۔ اس میں خود شک پیدا ہوتا ہے۔ بعض حکاّم شکی مزاج ہوتے ہیں پوچھنے سے خواہ مخواہ شک میں پڑتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے حکام کو…۱؎ کوئی خطرناک بدظنی نہیں ہے۔ ہماری جماعت کے ملازمین کو برابر ترقیاں مل رہی ہیں۔ ان کی کارروائیوںپر حکام خوشی ظاہر کرتے ہیں۔سو یہ ایک وہم ہوگا اگر ایسا خیال کیا جائے کہ حکاّم بدظن ہیں۔ اس لئے بلا تامل تشریف لے آویں میرے نزدیک کچھ مضائقہ نہیں۔ ہم سچے دل سے گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں۔ زیادہ خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار۔مرزا غلام احمد عفی عنہ
۱۲؍ فروری ۱۸۹۲ء
۱؎ اس جگہ ورق مکتوب اُڑا ہوا ہے کچھ حصہ جو نظر آتا ہے اس سے یہاں لفظ ’’طرف‘‘ یا ’’طرف سے‘‘ معلوم ہوتا ہے۔