واسطے میں نے اس سے عہد کر لیا ہے۔ کچھ کتب حق تصنیف میں دی جائیںگی اور کچھ کتب مہتمم چھاپہ خانہ کی نذر ہونگی۔ اگر خریدار پیدا ہو جاویں تو باقی ماندہ کتب فروخت کر کے لاگت کا کچھ حصہ وصول ہو سکتاہے وہ نقلیں جو حضور کی خدمت میں ارسال کی تھیں وہ کاپی میں آگئی ہیں کچھ مسودہ اِدھر اُدھر منتشر ہے۔ مہتمم چھاپہ خانہ اس کے جمع کرنے کی فکر میں ہے۔ فراہم ہو جانے کے بعد ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جاوے گا۔ دعا کریں کہ جیسے پہلے نقل حاصل کرنے میں خدا نے مجھے کامیاب کیا تھا ایسا ہی اب بھی کامیاب کرے جواب سے ممنون فرماویں۔ عاجز کا بڑا بچہ اور منجھلے سے چھوٹا بیمار ہیں اور عاجز کی اور عاجز کی بیوی کی بھی صحت درست نہیں ہے۔ حضور خاص توجہ سے دعا کریں کہ شافی مطلق پوری پوری صحت بخشے ۔آمین۔ والسلام عاجز قاضی عبدالرحیم نقشہ نویس محکمہ نہر از جموں مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۶ء میں نے اس میں کسی کی شکایت نہیں کی اور نہ ایڈیٹر صاحب پر شاکی ہوں جو کچھ مقدر ہوتا ہے ہو گزرتا ہے۔ صرف اصلیت امر کو ظاہر کیاہے۔ ٭ خطوط واحدانی کا لفظ مرتب کی طرف سے ہے۔ اس خط پر حضور نے اپنی قلم مبارک سے تحریر فرمایا: اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جاوے کہ اب صبر سے خداتعالیٰ پر توکّل کریں۔ دعا کی جائے گی۔ والسلام مرزا غلام احمد نوٹ: (۱) مکرم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی ذکر کرتے تھے کہ میرے بھائی کو ۱۹۴۷ء میں اچانک اپنے گھر سے نکلنا پڑا۔ بعد ازاں قادیان کا ایک سکھ دوست آیا اور کہنے لگا کہ گھر سے کچھ لانا ہے تو میرے ساتھ چلیں۔ بھائی گئے اور صرف وہ تھیلا لائے جس میں یہ مکتوبات تھے۔ یقینا حضور کے ارشاد کے باعث کہ ’’اس خط کو بہت محفوظ رکھاجائے۔ حضور کے اور صحابہؓ کرام کے کئی مکتوبات بچ گئے۔ (۲) اس مقدمہ کے متعلق قاضی عبدالرحیم صاحب نے قاضی عبدالسلام صاحب کو بتایا کہ ’’اس مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کے متعلق یہ واقعہ ہوا کہ عین اس تاریخ جس دن دعویٰ دائر ہونا تھا