کرتے ہیں کیونکہ حضرت کی خدمت میں جو خط لکھا تھا اس کا جواب مفتی صاحب نے دیا تھا۔ اور نیز میں نے یہ اجازت نہیں دی کہ اس کو اخبار میں شائع کیا جاوے جب کہ پہلے خط میں دی تھی اور اگر میں لکھ بھی دیتا کہ اس کو شائع کیا جاوے تو بھی ایڈیٹر صاحب اور مینیجر صاحب کا فرض تھاکہ چھپنے سے پیشتر مضمون پر ہر ایک پہلو سے غور کر لیتے اور بعد قانونی تصحیح کے چھاپتے کیونکہ کرم الدین کے مقدمہ نے پورا پورا سبق سکھا دیا تھا جن مخالفوں نے ایک لئیم کے لفظ پر اس قدر زور مارا کیا اب وہ کچھ کم کریں گے؟ آئندہ ماشاء اللہ ان کو تو خدا خدا کر کے ایسے موقع ہاتھ لگتے ہیںاب بھلا وہ کس طرح درگزر کریں۔ اصل مضمون میں یہ الفاظ ہیں۔
’’اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کے الزام لگاتے ہیں ممکن ہے وہ اس کی زندگی میں بھی خراب ہو‘‘۔
یعقوب مسیحی سے میں نے یہ سنا تھا لیکن اب وہ انکاری ہے اور ثبوت طلب کرتا ہے۔ یہی عیسائی اور مسلمان اس پر تلے ہوئے ہیں کہ عورت کی طرف سے فوجداری مقدمہ کرایا جاوے آج کل میں مقدمہ دائر کرنے والے ہیں پیروی کے واسطے ایک بڑی کمیٹی مقرر ہوئی ہے بظاہر ان کے باز رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ۱۹؍ فروری کا الہام ’’ایک عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘ شاید یہی چال ہو۔ میں دین کے کام میں لڑنے اور تکلیف سے نہیں ڈرتا۔ صرف ناداری اور عیالداری کی وجہ سے خوف ہے اس وقت میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں جو مقدمہ میں کام آئے اور مقدمہ کی ایک پیشی بھی سرمایہ بغیر بھگتی نہیں جا سکتی۔ اس لئے یہ مقدمہ میرے لئے سخت ابتلاء ہے۔ حضور خاص توجہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عورت کے شر سے بچالے۔ بھروسہ ہے تو صرف اس کی ذات بابرکات پر ہے۔ میرے مادی اسباب بھی کارگر نہیں ہوا کرتے۔ بواپسی جواب (سے٭) سرفراز کریں کہ کیا تجویز کی جاوے۔ کیونکہ آج کل میں مقدمہ جاری ہونے والا ہے۔ دیگر عرض ہے کہ شیخ رحیم بخش صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ چراغ دین کی کتاب چھپوانے کے واسطے حضور نے سخت تاکید کی ہے سو عرض ہے کہ میں مہتمم چھاپہ خانہ کے اس غرض سے کئی دفعہ گیا ہوں اس سے یہی معلوم ہوا ہے کہ اب چھپنے کی تجویز ملتوی ہوگئی ہے۔ ان کے پاس روپیہ نہیں اور میں خود اس لئے نہیں چھاپتا کہ یہ کوئی مفید کتاب نہیں جو دست بدست فروخت ہو سکے۔ آخر میں نے اسے بہت کچھ طمع و ترغیب دے کر چھاپنے پر آمادہ کر لیا ہے کل لاگت کوئی ۵۰ یا ۶۰ روپیہ تک ہوگی جس کے ادا کرنے کے