رتن باغ لاہور میں ۱۳؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو ہوئی چوبرجی والے قبرستان میں حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ کے قریب دفن ہوئیں۔ میں وہاں سے ہڈیاں وغیرہ نکال لایا اور ۲۸؍ مارچ کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں حضرت والد صاحبؓ کے قریب دفن کیا۔ ان کی شادی غالباً ۱۹۰۶ء میں دارالمسیح میں منشی مہتاب علی صاحبؓ سیاح سکنہ ضلع جالندھر سے ہوئی تھی۔ حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خود انہیں رخصت کیا تھا۔ پھوپھی صاحبہ مرحومہ بیان کیا کرتی تھیں کہ رخصتانہ کے وقت جب حضرت اُمّ المؤمنین نے فکر سے کہا کہ وہ تو اب جاتی ہے تو حضور نے فرمایا فکر نہ کرو ہم اس کا مُکلاوا لمبا کریں گے یعنی خاوند سے واپس آئے گی تو زیادہ دیر تک اپنے پاس ٹھہرائیں گے۔ منشی صاحبؓ نے ہمارے خاندان کے ایک نوجوان فیض اللہ نامی سے مباہلہ کیا تھا جو ایک سال کے اندر طاعون سے ہلاک ہو گیا تھا۔ حضور نے تتمہ حقیۃ الوحی میں صفحہ ۱۶۵،۱۶۶ پر اس نشان کا ذکر فرمایا ہے۔ منشی صاحبؓ ۱۹۲۱ء میں فوت ہوئے۔ اولاد میں سے صرف میری بیوی مبارکہ بیگم زندہ ہے۔باقی بچے بچپن میں فوت ہوگئے تھے‘‘۔ ٭٭٭ ۵۸/۴۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔خاکسار نے ایک عریضہ چراغ دین کی وفات پر حضور پُرنور کی خدمت میں ارسال کیا تھا اور اخبار میں چھپنے کے واسطے بھی لکھ دیا تھا اس کے جواب میں مفتی صاحب نے لکھا کہ چراغ دین کے متعلق چند باتیں تحقیقات سے دریافت کر کے لکھو جو کچھ مجھے دریافت کرنے سے معلوم ہوا میں نے تحریر کر دیا لیکن مجھے یہ وہم بھی نہ تھا کہ یہ خط اخبار میں چھاپا جائے گا۔ میں نے اس خیال پر کہ شاید چراغ دین کے متعلق کوئی مضمون لکھا جائے گا وہ کل حالات صرف پرائیویٹ طور پر تحریر کئے تھے اور اس خیال سے تحریر کئے تھے کہ اس مضمون کے لئے مصالحہ درکار ہوگا اس لئے میں نے اس خط میں بعض باتیں بے تعلق بھی درج کر دی تھیں جن کا اصل غرض کے ساتھ کوئی لگاؤ نہ تھا۔ اگر اخبار کے لئے مضمون لکھتا تو طرز تحریر بدل دیتا جیسے کہ پہلے خط میں نے قابل گرفت الفاظ کا لحاظ رکھا ہے ایسی ہی اس خط میں بھی ان باتوں کو مدنظر رکھتا۔ میں نے تو صرف حضور کے واسطے لکھا تھا نہ اخبار کیلئے۔ مفتی صاحب کی طرف اس لئے لکھا تھا کہ شاید مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی جابجا مفتی صاحب خط وکتابت کا کام