۵۷/۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضور نے غلام کی ہمشیرہ امۃ الرحمن کے رشتہ کیلئے اپنے رشتہ داروں میں کوشش کرنے کے لئے فرمایا تھا سو عاجز نے مطابق حکم حضور اپنے قبیلہ میں ہرچند کوشش کی ہے کوئی صورت خاطر خواہ میسر نہیں آئی۔ جو خواہاں ہیں وہ حضور کے مخالف ہیں مخالفوں سے تعلق قائم کرنا پسند نہیں۔ عاجز کی گزارش ہے کہ اس معاملہ کو زیادہ عرصہ تک ملتوی نہ رکھا جائے۔ حضور جس جگہ مناسب سمجھیں تجویز فرماویں۔ عاجز کو کل جناب نواب صاحب۱؎ نے بھی جلدی فیصلہ کرنے کی تاکید کی ہے اور دیر کر بہت مکروہ خیال کیا ہے۔ چند آدمیوں کا انہوں (نے٭)نام بھی لیاہے اور ان کی شرافت کی بہت تعریف کی ہے۔ اُن میں سے ایک اخویم احمد نور صاحب کابلی ہیں۔ احمد نور صاحب کی طرف کبھی کبھی والد صاحب مرحوم بھی خیال کیا کرتے تھے مگر محض للہ۔ حضور جیسا مناسب جانیں اور جہاں بہتر سمجھیں تجویز کر دیں مگر جلدی فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ عاجز کا اور ہمشیرہ امۃ الرحمن کا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ حضور کے فیصلہ میں نور اور برکت ہوگی۔ والسلام حضور کی جوتیوں کا غلام عبدالرحیم ولد قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم مورخہ ۳۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء نوٹ: (۱) حضور کا جواب ضمیمہ صفحہ۱۳ پر درج ہے۔ غلطی سے وہاں نمبر لکھنے سے رہ گیاہے۔ چربہ اصل کتاب کے صفحہ ۷۳،۷۴ پر درج ہے۔ (۲) ’’1904‘‘ بحرف انگریزی خط والی سیاہی سے مختلف سیاہی سے مرقوم ہے۔ مکرم قاضی عبدالسلام صاحب فرماتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ کب ’’1904‘‘ لکھاگیا۔ غالباً والد صاحب مرحوم ۱؎ مراد حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ ۔ (مرتب) ٭ خطوط واحدانی کا لفظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہے۔ نے لکھا ہوگا۔ حضرت قاضی ضیاء الدینؓ صاحب کی وفات ۱۹۰۴ء ہی میں ہوئی تھی۔ (۳) محترم قاضی عبدالسلام صاحب تحریر کرتے ہیں کہ: ’’عاجز کی پھوپنی صاحبہ کا اصلی نام فاطمہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بدل کر امۃ الرحمن تجویز فرمایا کہ فاطمہ نام کے ساتھ کچھ صعوبت کی زندگی کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ ان کی ولادت ۲۱؍ شعبان ۱۲۹۵ھ کو ہوئی اور وفات