لڑکے بے اخبر اُٹھالے جاتے ہیں کوئی چیز محفوظ نہیں رہتی۔ اس سے پہلے یہ عاجز چھاپہ خانہ۱؎ کے مشرقی دروازہ میں
۱؎ مراد مطبع ضیاء الاسلام ہے جو مطب حضرت خلیفہ اوّلؓ سے ملحق جانب جنوب تھا اور خلافت ثانیہ میں بطور گیراج استعمال ہوتا رہا۔ اب بھی گیراج کی شکل میںموجود ہے (مطب اور پریس کے نقشہ کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد دوم صفحہ۱۶؍۱۶) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ بعد ازاں حضرت قاضی صاحبؓ مہمان خانہ کے اس کمرہ میں جلد
حکیم صاحب کے حکم سے بیٹھتا رہاہے۔۱؎ چونکہ اور کوئی ایسی جگہ موجود نہیں لہٰذا سال بھر سے زیادہ وہیں گزارہ ہوتا ہے کیا اب بھی وہیں اجازت دیتے ہیں یا کوئی اور جگہ جو عاجز کے حال کے موزوں ہو۔ دراصل جگہ کے بارہ میں عاجز از حد مضطر ہے۔ گھر کی نسبت یہ حال ہے کہ پرسوں ڈپٹی کے بیٹے نے بذریعہ ڈاک نوٹس ۲؎ دیا ہے کہ ایک ہفتہ تک مکان خالی کر دو ورنہ تین روپیہ ماہوار کرایہ مکان واجب الادا ہوگا۔ اس وقت کے رفع کے لئے بھی حضور دعا فرماویں کہ بے منت غیرے کوئی جگہ مولا کریم میسر کرے۔
والسلام والاکرام غرضیہ نیاز مسکین ضیاء الدین عفی عنہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء
حاشیہ بقیہ صفحہ: جلد سارڑ کی دکان کرتے رہے جو بلکہ کے پاس جانب شمال ہے اور اس کا ایک دروازہ احمدیہ بازار میں کھلتا ہے۔
۱؎ مراد حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحبؓ بھیروی ہیں جو مطبع ضیاء الاسلام قادیان کے مہتمم تھے اور حضور کے جواب میں ان کا ذکر ہے۔
نوٹ: (۱) اس خط کے جواب میں جو کچھ حضور نے تحریر فرمایا ضمیمہ صفحہ ۱۳ پر دوسرے نمبر پر درج ہے۔ اس کا چربہ ضمیمہ صفحہ اصل کتاب کے حکم صفحہ۷۳،۷۴ پر دیا گیاہے۔
(۲) محترم قاضی عبدالسلام صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحبؓ نے مجھے لکھوایا کہ حضرت دادا صاحبؓ جب قادیان میں آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دارالمسیح میں رہائش کی جگہ دی تھی۔ میری ولادت دسمبر ۱۹۰۲ء میںاس مکان میں ہوئی جہاں اب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا مکان ہے۔ یہ جگہ ڈپٹیوں کی تھی اور کرایہ پر لی ہوئی تھی۔