میں چراغ دین جمونی کی تحریر کا جو عکس دیا گیا ہے یہ تحریر آپ ہی نے جموں سے بھجوائی تھی آپ ہی کا صاحبزادہ (اور خاکسار کے استاذ المحترم) قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی پرنسپل و صدر جماعت احمدیہ نیروبی (مشرقی افریقہ) سے ذیل کے مکتوبات مجھے نقل کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ آپ قادیان کی زیارت کے موقعہ پر گذشتہ اپریل میں میرے لکھنے پر مکتوبات قادیان لے آئے تھے۔ مگر قاضی محمد عبداللہ صاحب کو بھی بہت سی خدمات سلسلہ کا موقعہ ملا ہے۔
۱؍۵۵
یہ مکتوب صفحہ ۱۳ ضمیمہ پر مندرجہ خطوط میں سے پہلا ہے اور حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ کے نام ہے۔ وہاں سہواً نمبر درج ہونے سے رہ گیا ہے اس کا چربہ اصل کتاب کے صفحہ۷۳،۷۴ پر دیا گیاہے۔
نوٹ بر ۱؍۵۵: اس مکتوب میں ’’بہو‘‘ سے مراد محترمہ صالح بی بی صاحبہؓ مرحومہ اہلیہ محترم قاضی عبدالرحیم صاحبؓ بھٹی ہیں۔ موصوفہ نے ۱۳؍ نومبر ۱۹۵۰ء کو راولپنڈی میں وفات پائی اور امانتاً دفن ہوئی۔ آپ کے بیٹے محترم قاضی عبدالسلام صاحب تابوت کو جو قدرت خداوندی سے بالکل محفوظ تھا ربوہ لے آئے اور ۹؍ فروری ۱۹۵۴ء کو انہیں بہشتی مقبرہ میں اپنے خاوند کے دائیں جانب دفن کر دیا گیا۔ قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہِ ذرہ نوازی بعد ظہر جنازہ پڑھایا اس سے قبل ان کی وفات پر مسجد مبارک ربوہ میں نماز جمعہ کے بعد جنازہ غائب پڑھا تھا۔ سو مرحومہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ دو دفعہ خلیفہ وقت نے ان کا جنازہ پڑھا۔
(مرتب)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۵۲/ ۲
بحضور امامنا وحبیبنا
بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عرضداشت آنکہ مہدی حسین صاحب رخصت سے واپس آگئے ہیں۔اب عاجز کے واسطے کیا حکم ہے یہاں کوچہ میں جلد بندی کی بہت چیزیں