السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یہ تجویز آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کی گئی تھی کہ فی التاخیر آفات کا مقولہ یاد آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے بعض خوابیں دیکھی ہیں اور بعض الہام ہوئے ہیں جن کا میں نے مختصر طور پر آپ کی خدمت میں کچھ حال بیان کیا تھا۔ اگر میرے پاس زینب ہو تو دعا کا موقعہ ملتا رہے گا میں دیکھتا ہوں کہ لڑکا بھی جوان ہے ابھی مجھے نیا مکان بنانے کی گنجائش نہیں اسی مکان میں مَیں نے تجویز کر دی ہے لیکن چونکہ تجربہ سے ثابت ہے کہ اگر لڑکیاں والد کے گھر سے سرسری طور پر رخصت ہوں تو ان کی دل شکنی ہوتی ہے اس لئے میں اس وقت تک جو آپ مناسب سمجھیں اور رخصت کیلئے تیاری کر سکیں مہلت دیتا ہوں مگر آپ اس مدت سے مجھے اطلاع دے دیں میرے نزدیک دنیا کے امور اور ان کی الجھنیں چلی جاتی ہیں لڑکیوں کی رخصت کو ان سے وابستہ کرنا مناسب نہیں۔ والسلام مرزا غلام احمد ۳۷/۱۰۰ مذکورہ بالا کے جواب میں نواب صاحب نے تحریر فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔ میری اپنی رائے تو یہی تھی کہ حضور ہی کوئی مہلت معقول عطا فرما دیتے مگر جب حضور (نے٭) مجھ پر چھوڑا تو یہ امر زیادہ ذمہ داری کا ہو گیا۔ اس لئے جہاں حضور نے یہ عنایت فرمائی ہے اتنی مہربانی اور ہو کہ میں ایک ماہ کے اندر سوچ کر عرض کر دوں کہ میں کب تک رخصتانہ کا انتظام کر سکتا ہوں۔ اس کی صرف یہ ضرورت ہے کہ میں انتظام میں لگا ہوں پس اس عرصہ میں مجھ کو انشاء اللہ تعالیٰ ٹھیک معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر عرصہ میں انتظام مکمل ہو جائے گا۔ حضور بھی دعا فرمائیں کہ میں اس کامیں کامیاب ہوں۔ میں آج کل ہر طرح کی ابتلاؤں (کے٭) نرغے میں ہوں۔ راقم محمد علی خان مکرر: اس عرصہ بعد مجھ کو جتنی مہلت کی ضرورت ہوگی عرض کر کے تاریخ مقرر کردوں گا