عمر کی بے ثباتی پر خیالکر کے یہ چند سطریں لکھی ہیں کیونکہ بقول شخصے
اے ز فرصت بے خبر در ہرچہ باشی زود باش
وقت فرصت کو ہاتھ سے دینا بسا اوقات کسی دوسرے وقت میں موجب حسرت ہو جاتا ہے میری دانست میں تو اس میں کچھ حرج نہیں اور سراسر مبارک ہے کہ رمضان کی ۲۷؍ تاریخ کو بظن غالب لیلۃ القدر کی رات اور دن ہے مسنون طور پر نکاح ہو جائے اور اس… میں کیا حرج ہے کہ اس سے لڑکی کو اطلاع دی جائے مگر وداع نہ کیا جائے۔ لڑکی بجائے خود… پرورش اور تعلیم پاوے اور لڑکا بجائے خود جب دونوں بالغ ہو جائیں تب رخصت کیا جائے کیونکہ کہ فی التاخیر آفات کا ہی مقولہ صحیح ہے جو تجربہ اس کی صحت پر گواہی دیتا ہے۔ زندگی کا کچھ بھی اعتبار نہیں شیخ سعدی نے اس میں کیا عمدہ ایک غزل لکھی ہے اور وہ یہ ہے۔
بلبلے زاد زا رمی نالید بر فراق بہار و وقتِ خزاں
گفتمش صبر کن کہ باز آید آں زمانِ شگوفہ و ریحاں
گفت ترسم بقا وفا نکند ورنہ ہر سال گل دہدبستاں
اسی طرح شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
سال دیگر را کہ میداند حساب تا کجا رفت آنکہ باما بود یار
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لاتقف مالیس لک بہ علم یعنی ان باتوں کے پیچھے مت پڑ جن کا تجھے علم نہیں۔ پس ہمیں کیا علم ہے کہ سال آئندہ میں ہم زندہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اور جب قائمقاموں کے ہاتھ میں بات جاتی ہے تو وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرتے ہیں میں نے٭ یہ محض میں نے اپنی رائے
٭ ’’میں نے‘‘ خط میں دو بار مرقوم ہے۔ مرتب
لکھی اور آپ اپنی رائے اور ارادہ میں مختار ہیں۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۰؍ رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ
٭٭٭
اس خط کا چربہ آخر میں ملاحظہ فرمائیے۔
۳۷/۱۰۰
یہ مکتوب منجانب نواب صاحب بنام حضرت اقدس ہے
اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حسب ذیل مکتوب ارسال فرمایا۔