نوٹ: اس خط کا جواب زبانی پیر منظور محمد صاحب حامل خط ہذا کو یہ دے دیا تھا کہ مجھ کو بلاعذر سب کچھ منظور ہے۔
محمد علی خان)
نوٹ: مکتوب میں حضور کے برادر نسبتی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓ مراد ہیں۔
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۳۶
۹۹
محبی عزیزم اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا خط مرسلہ پہنچا اس کے رقعہ کی کچھ ضرورت نہ تھی لیکن میں جانتا ہوں کہ جس طرح انسان دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک فیصلہ کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور پھر پھر اس درد سے نجات پاتا ہے کہ جو تنازع کی حالت میںہوتی ہے اسی طرح انسان کا نفس خدا تعالیٰ نے ایسا بھی بنایا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر کئی مقدمات برپا رکھتا ہے اور ان مقدمات سے نفس انسانی بے آرام رہتا ہے لیکن جب انسان کسی امر کے متعلق ایک فیصلہ کرلیتا ہے تب اس فیصلہ کے بعد ایک آرام کی صورت پیدا ہو جاتی ہے آپ کی رائے میں صرف یہ کسر باقی ہے کہ ہمیں زندگی کا اعتبار نہیں جیساکہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے ایساہی آپ بھی زندگی پر بھروسہ نہیں کر سکتے اور اس بارے میں یہ شعر شیخ سعدی کا بہت موزوں ہے۔
من تکیہ بر عمر ناپائیدار مباش ایمن از بازی روز گار
پس اگر ہمیں موت آ گئی تو ہم اس رشتہ کی خوشی سے محروم گئے اور نیز اس دعا سے محروم رہے کہ جو ہماری زندگی کی حالت میں اس رشتہ کے مبارک ہونے کے لئے کر سکتے تھے۔ کیونکہ وہ دعا اس وقت سے مخصوص ہے جب نکاح ہو جاتا ہے علاوہ اس کے ہر یک کو اپنی عمر پر اعتماد کرنا بڑی غلطی ہے۔ آج سے چھ ماہ پہلے آپ کے گھر کے لوگ صحت کے ساتھ زندہ موجود تھے کون خیال کر سکتا تھا کہ وہ اس عید کو بھی نہ دیکھ سکیں گے اسی طرح ہم میں سے کس کی زندگی کا اعتبار ہے؟ اگر موت کے بعد اس وعدہ کی تکمیل ہو تو گویا میری اس بات کو یاد کر کے خوشی کے دن میں رونا ہوگا مگر میں آپ کی رائے میں کچھ دخل نہیں دیتا صرف