رشتے میں مجھے عذر نہیں ہوگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میںتامل نہیں ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ مہر میں آپ کی دو سال کی آمدن جاگیر مقرر کی جائے یعنی … ہزار روپیہ اور اس قرار کے بارے میں ایک دستاویز شرعی تحریری آپ کی طرف سے حاصل ہو۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نہایت درجہ اخلاص میںگداز شدہ ہیں اور آپ نے ہر ایک پہلو سے ثبوت دے دیا ہے کہ آپ کو جانفشانی تک دریغ نہیں مگر جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ اوّل تو آپ کی خداداد حیثیت سے بڑھ کر نہیں اور پھر آپ کی ذات کے متعلق نعوذ باللہ اس میں کوئی بدگمانی نہیں۔ محض خدا نے میرے دل میں ایسا ہی ڈال دیا ہے اور ظاہری طور پر اس کے لئے ایک صحیح بنا بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ موت حیات کا اعتبار نہیں اور آپ کے خاندان کے عمل درآمد کے رو سے عورتیں اپنے شرعی حقوق سے محروم ہوتی ہیں اگر بعد میں کچھ گزارہ تجویز کیا جائے تو وہ مشکوک اور (نہ٭) اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور خدا آپ کی اولاد کی عمر دراز کرے وہ بعد بلوغ اپنے اپنے خیالات اور اغراض کے پابند ہونگے اور حق مہر کا فیصلہ ایک قطعی امر ہے اور ایک قطعی حق ہے جو خدا نے ٹھہرا دیا ہے اور عورتیں جو بے دست و پا ہیں اس حق کے سہارے سے ظلم سے محفوظ رہتی ہیں آپ کی زندگی میں اس مہرکا مطالبہ نہیں لیکن خدانخواستہ اگر لڑکی کی عمر ہو اور آپ کی عمر وفا نہ کرے تو اس کی تسلی اور اطمینان کیلئے اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ طریق اور اس قدر مہربانی ہوگا تا کہ دوسروںکے لئے صورت رعب قائم رہے یہ وہ امر ہے جس کو سوچنے کے لئے میں آپ کو اجازت نہیں دیتا ایک قطعی فیصلہ ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر ان دونوں باتوں کی آج آپ تکمیل کر دیںتو گو لڑکی ایک سال کے بعد رخصت ہومگر پیر کے دن نکاح ہو جائے یہ ایک قطعی فیصلہ ہے جو میری طرف سے ہے اس میں کسی طرح کمی بیشی نہیں ہوگی اس وجہ سے میں
٭ خطوط واحدانی والا لفظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہے۔
نے اس خیال سے اور اسی انتظار سے عزیزی سید محمد اسماعیل کو پیر کے دن تک ٹھہرا لیا ہے اگر آپ کی طرف سے اس شرط کی نامنظوری ہوگی تو پھر وہ کل ہی اپنی نوکری پر چلا جائے گا۔
والسلام
راقم مرزا غلام احمد عفی عنہ
۱۲؍ فروری ۱۹۰۸ء