میں دعا کر رہا ہوں۔ والسلام مرزا غلام احمد نوٹ: اس خط کا جواب میں نے یہ دیا تھاکہ جو کچھ حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے درست اور قبول و منظور اور انتظار ممکن۔ (محمد علی خاں) نوٹ از مرتب: (۱) رویا کہ ’’ایک ران لٹک رہی ہے‘‘۔ غیر مطبوعہ ہے اور خاکسار کو پہلی بار اس کی اشاعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ فالحمدللہ علی ذالک۔ (۲) ۱۹۰۷ء کا رؤیا بدر و الحکم میں اس قدر شائع ہوا ’’ایک گو سفند مسلوخ دیکھا‘‘ لیکن مکتوب ہذا میں زیادہ تفصیل ہے (۳) الہام و رؤیا اس مکتوب میں ۱۹۰۷ء کی درج ہیں نواب صاحب کے خط سے جلسہ سالانہ کا قرب اور ۲۷؍ سے ایک ہفتہ قبل ان کے اجازت طلب کرنے کا علم ہوتا ہے گویا کہ یہ مکتوب ۲۰ دسمبر ۱۹۰۷ء کا ہے یہ خیال نہ کیا جائے کہ مسلوخ گو سپند والی رؤیا صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات (۱۶؍ ستمبر۱۹۰۷ء) سے پوری ہوگئی جیسا کہ الحکم بابت ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ب کالم ۲ اور بابت ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶ کالم ۲ اور بدربانیہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ۵ کالم ۳ میں لکھا گیا ہے (اور یہ بھی درج ہے کہ یہ رؤیا حضرت نے تین اشخاص کو سنائی تھی جن میں سے ایک حضرت نواب صاحب تھے) کیوں کہ صاحبزادہ صاحب کی وفات کے بعد حضور مکتوب ہذا میں اس رؤیا کا ذکر فرماتے ہیں کہ گویا کہ ابھی پوری نہیں ہوئی اور اس رؤیا کے متعلق اس امر کا علم صرف نواب صاحب اور حضور کے ان مکتوبات سے ہوتا ہے نیز تذکرہ میں اس رؤیا کی تاریخ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء سے قبل لکھی گئی ہے۔ حوالہ جات مذکورہ سے ظاہر ہے کہ یہ ۳۱؍ اکتوبر نہیں بلکہ اس کی تاریخ ڈیڑھ ماہ قبل درج ہونی چاہئے۔ یعنی ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء سے قبل۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۳۵/ ۹۸ میری لخت جگر مبارکہ بیگم کی نسبت جو آپ کی طرف سے تحریک ہوئی تھی میں بہت دنوں تک اس معاملہ میں سوچتا رہا آج جو کچھ خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے اس شرط کے ساتھ اس