واقعی لنگر خانہ کے لوگ ایک طرف تاکید کی جائے دوسری طرف پھر غافل ہو جاتے ہیں کثرت آمد مہمانوں کی طرف سے بعض اوقات دیوانے کی طرح ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ سے عمدہ طور سے انتظام ہو سکے تو میں خوش ہوں اور موجب ثواب۔ خط آپ نے بہت عمدہ لکھا ہے مگر ساتھ لکھتے وقت ترتیب اوراق کا لحاظ نہیں رہا خط… پڑہتے جب دوسرے صفحہ میں مَیں پہنچا تو وہ عبارت پہلے صفحہ سے ملتی نہیں تھی اس کو درست کر دیا جائے۔ والسلام مرزاغلام احمد نوٹ از مرتب: یہ مکتوب آخر ۱۹۰۶ء یا ابتدا ۱۹۰۷ء کا ہے تفصیل کیلئے دیکھئے اصحاب احمد جلد دوم صفحہ۴۸۶ ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ ۳۱/۹۴ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ عجیب اتفاق ہوا کہ آپ نے ہزار روپیہ کانوٹ بند خط کے اندر بھیجا اور میاں صفدر نے شادی خاں کی والدہ کے حوالہ کیا جس کو دادی کہتے ہیں۔ وہ بیچاری نہایت سادہ لوح ہے وہ میری چارپائی پر وہ لفافہ چھوڑ گئی میں باہر سیر کرنے کو گیا تھا اور وہ بھول گئی اب اس وقت اس نے یاد دلایا کہ نواب صاحب کا ایک خط آیا تھا میں نے پلنگ پر رکھا تھا پہلے تو وہ خط تلاش کرنے سے نہ ملا۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ کل زبانی دریافت کر لیں گے پھر اتفاقاً بستر کو اُٹھانے سے وہ خط مل گیا اور کھولا تو اس میں ہزار روپیہ کا نوٹ تھا یہ بے احتیاطی اتفاقی ہوگئی گویا ہزار روپیہ کا نقصان ہو گیا تھا۔ مگر الحمدللہ مل گیا۔ وہ عورت بیچاری نہایت سادہ اور نیم دیوانہ ہے۔ وہ بے احتیاطی سے پھینک گئی۔ خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے آپ نے اپنی نذر کو پورا کیا۔ آمین والسلام مرزا غلام احمد حضور چشمہ معرفت میں تحریر فرماتے ہیں کہ نواب صاحبؓ نے بعد کامیابی بلا توقف تین ہزار روپیہ لنگر خانہ کے لئے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا کر دیا۔ صفحہ ۳۲۳،۳۲۴) چنانچہ مکتوب ہذا میں اس نذر کے پورا کرنے کا ذکر ہے اور نواب صاحب کے ۱۶؍ فروری ۱۹۰۸ء