موسم برسات ۱۹۰۷ء یا برسات دسمبر ۱۹۰۷ء یا اوائل ۱۹۰۸ء کا یہ مکتوب ہے۔ موسم سرما میں دسمبر یا جنوری میں بھی بارش ہوتی ہے قابل ترجیح یہ امر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار نئی نئی قبریں دسمبر ۱۹۰۶ء یا جنوری ۱۹۰۷ء میں بارش سے دَب گئی ہوں گی اور دوبارہ موسم برسات ۱۹۰۷ء کی ابتداء میں دَب گئیں۔ واللّٰہ اعلم ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۳۰/۹۳ سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم آج سیر میں تذکرہ تھا کہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی طبیعت پھر علیل ہے اور ان کی غذا کا انتظام درست نہیں ہے جونکہ مجھ کو حضرت مولانا نے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھایا ہے اور اس طرح مجھ کو ان کی شاگردی کا (گو میں بدنام کنندہ نکونامے چند کے طور سے شاگرد ہوں) فخر حاصل ہے۔ اس لئے میرے دل میں یہ خواہش رہتی ہے کہ حضرت مولانا کی کچھ خدمت کر سکوں۔ کبھی کبھی میں ن(نے٭)ان کی غذا کا التزام کیا ہے مگر حضرت مولانا کی غیور طبیعت برداشت نہیں کرتی اور وہ روک دیتے ہیں اسی لئے الامرفوق الادب کے لحاظ سے پھر جرأت نہیں پڑتی اب اگر حضور حکم فرماویں تو اس طرح مجھ کو خدمت کا ثواب اور حضرت مولانا کے غذا کا انتظام ہو جاتا ہے اور حضرت مولانا حضور کے حکم کی وجہ سے حد انکار بھی نہ کریں گے اصل بات یہ ہے کہ لنگر میں بہ سبب کثرت کار پوری طرح سے التزام مشکل ہے میرے باورچی کو چونکہ اتنا کام نہیں اس لئے خدا کے فضل اور حضور کی دعا سے امید کی جاتی ہے کہ التزام ٹھیک رہے گا بس اگر میری یہ عرض قبول ہو جائے تو میرے لئے سعادت دارین کا موجب ہو۔ دوم میں نے اپنے بھائی کو حضور کے حکم کے بموجب خط لکھا ہے حضور ملاحظہ فرما لیں اگر یہ درست ہو تو بھیج دوں۔ راقم محمد علی خاں حضور نے جواباً تحریر فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ حضرت مولوی صاحب کی نسبت مجھے کچھ عذر نہیں