نالیوں کی وجہ سے سیلاب ویسے ہی رہتا ہے اور یہ نالیاں درختوں کے لئے ضروری ہیں پھر اس پر یہ زیادہ ہے پانی جو آیا کرتا ہے اس کی طرح سے یہ قبریں کوئی دو فٹ نیچی ہیں اب معمولی آب پاشی ہے اور ان بارشوں سے اکثر قبریہ دَب جاتی ہیں پہلے صاحب نور اور غوثاں کی قبریں دَب گئی تھیں ان کو میں (نے) درست کرا دیا تھا اب پھر یہ قبریں دَب گئی ہیں اور یہ پانی صاف نظر آتا ہے کہ نالیوں کے ذریعہ گیا ہے۔ پس اس کے متعلق کوئی ایسی تجویز تو میر صاحب فرمائیں گے کہ جس سے روز کے قبروں (کے) دبنے کا اندیشہ جاتا رہے مگر میرا مطلب اس وقت اس عریضہ سے یہ ہے کہ ابھی تو معمولی بارش سے یہ قبریں دبی ہیں پھر معلوم نہیںکوئی رو آ گیا تو کیاحالت ہوگی۔
اس لئے نہایت ادب سے عرض ہے کہ اگر حضور حکم دیں تو میں اپنے گھر کے لوگوں کی قبر کو پختہ کر دوں اور ایک (دو)دوسری قبریں بھی یا (جیسا) حضور حکم دیں ویسا کیا جائے۔
(راقم محمد علی خاں)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرے نزدیک اندیشہکی وجہ سے کہ تا سیلاب کے صدمہ کی وجہ سے نقصان (نہ ہو) پختہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں معلوم ہوتا کیونکہ انما الاعمال بالنیات باقی رہے مخالف لوگوں کے اعتراضات تو وہ تو کسی طرح کم نہیں ہو سکتے۔ والسلام
مرزا غلام احمد عفی عنہ (ب)
نوٹ از مرتب: (۱) دونوں مکتوبات میں خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔ (۲) دونوں مکتوبات کی تاریخ کی تعیین ذیل کے امور سے ہوتی ہے۔
(الف) تاریخ وفات غوثاںؓ ۲۳؍ستمبر۱۹۰۶ء ، صاحب نور صاحب ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء اور اہلیہ صاحبہؓ حضرت نواب صاحب ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء ہے۔ (ب) موسم برسات یہاں جون سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ اور مکتوب میں معمولی بارش ہونے کا ذکر ہے اور ۱۹۰۶ء میں ان مرحومیں کی وفات سے پہلے یہ موسم گزر چکا تھا اور ۱۹۰۸ء میں حضور نے ۲۷؍ اپریل کو سفر لاہور اور وہاں اگلے ماہ سفر آخرت اختیار کیا۔ گویا کہ اس سال میں موسم برسات شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ (ج) ایک دفعہ پہلے یہ قبریں بارش سے دَب چکی تھیںاور درست کرائی گئیں تھیں اور اب موسم برسات کی ابتداء تھی ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ