اور لفٹنٹ گورنر پنجاب کی طرف سے مایوسی ہوئی اور معاملہ وائسرائے تک پہنچایا گیا۔ چنانچہ وہاں کامیابی ہوئی۔ اس معاملہ کے متعلق مکتوب ۹۴؍۳۱ کتاب ہذا ہے۔
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۲۶/۸۹
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللّٰہ تا دم تحریر خط ملا ہر طرح سے خیریت ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو معہ اہل و عیال سلامت قادیان میں لاوے۔آمین
آج میں میاں الٰہی بخش صاحب کو خود ملا تھا۔ وہ بہت مضطرب تھے کہ کسی طرح مجھ کو کوٹلہ میں پہنچایا جاوے اور کہتے تھے کہ کوٹلہ میں میری پنشن مقرر ہے جولائی سے واجب الوصول ہوئی میں نے ان کے بیش اصرار پرتجویز کی تھی کہ ان کو ڈولی میں سوار کر کے اور ساتھ ایک آدمی کر کے پہنچایا جاوے۔ مگر پھر معلوم ہوا کہ ایسا سخت بیمار جس کی زندگی کا اعتبار نہیں وہ بموجب قادیان ریل والوں کے ریل پر سوار نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اسی وقت میں نے ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب کو ان کی طرف بھیجا ہے تا ملائمت سے ان کو سمجھا دیں کہ ایسی بے اعتبار حالت میں ریل پر وہ سوار نہیں ہو سکتے اور بالفعل دو روپیہ ان کو بھیج دیئے ہیں کہ اپنی ضروریات کے لئے خرچ کریں اور اگر میرے روبرو واقعہ وفات کا ان کو پیش آ گیا تو میں انشاء اللہ القدیر اسی قبرستان میں ان کو دفن کراؤں گا۔
باقی سب طرح سے خیریت ہے بہتر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ضروری کام کے انجام کے بعد زیادہ دیر تک لاہور میں نہ ٹھہریں اور میری طرف سے اور میرے گھر کے لوگوں کی طرف سے آپ کے گھر میں السلام علیکم کہہ دیں۔
والسلام راقم مرزا غلام احمد عفی عنہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۶ء
نوٹ از مرتب: میاں الٰہی بخش صاحب خلیفہ کہلاتے تھے۔ نعلبند تھے فوج میں ملازم رہ چکے تھے۔ حضرت نواب صاحب سے بطور اعانت ماہوار وظیفہ پاتے تھے وطن مالیر کوٹلہ بعمر اسّی سال ۹؍ اپریل ۱۹۰۶ء کو قادیان میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے اور