ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب موصوف ۹؍ جون ۱۹۲۱ء کو۔ ڈاکٹر صاحب سکنہ گوریانی تحصیل جھجھر ضلع رہتک کا نام ۳۱۳ صحابہ مندرجہ انجام آتھم میں ۶۸ نمبر پر ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۲۷/۹۰ محبی عزیزی نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاخط مجھ کو ملا جو بہت غمناک دل کے ساتھ پڑھا گیا کل مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک الہام مندرجہ ذیل الفاظ میںیا کسی قدر تغیر لفظ سے ہوا تھا کہ کئی آفتیں اور مصیبتیں ہم پر نازل ہوگئی ہیں۔ مَیں تمام دن اس الہام کے بعد غمگین رہا کہ یہ کیا بھید ہے۔ آج خط پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ آپ کا پیغام خداتعالیٰ نے پہنچایا تھا میں اس میں خاص توجہ سے دعا کروں گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ یہ بلا ٹال دے گا۔ وہی احکم الحاکمین ہے اور ہر ایک امر اس کے اختیار میں ہے آپ اس میں بے صبری نہ کریں اور نہایت نرمی سے کام لیں۔ اصل حکم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہ دنیا ایک عجیب مقام ہے کہ ایک دن ایک شخص ایک کے ہاتھ سے روتا ہے اور دوسرے دن وہی ظالم مصیبت میں گرفتار ہو کر رونا شروع کر دیتا ہے۔ پس آپ بار بار یہ عذر پیش نہ کریں کہ جاگیر سے دست بردار ہوتے ہیں بلکہ سب کچھ قبول کر لیں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے۔ ہاں قادیان میں رہنے کے بارے میں نرمی اور عذر کرنا چاہئے اور ہو سکتا ہے کہ آپ عذر کر دیں کہ مالیر کوٹلہ میں میری حالت صحت اچھی نہیں رہتی کیونکہ صحت جیسا کہ صحت جسمانی ہے روحانی بھی ہے اور روحانی صحت کے خیال سے کسی طرح آپ کے کوٹلہ کی سکونت مفید نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر تنگ کریں تو سکونت کو اس شرط سے قبول کریں کہ اس وقت تک رہوں گا جب تک اس جگہ کا قیام میری صحت کے مخالف نہ ہو یہ تو تمام ظاہری باتیں ہیں مگر میں امید رکھتا ہوں کہ میری دعا پر ضرور خدا تعالیٰ کوئی راہ آپ کے لئے نکال دے گا۔ بالفعل آپ کو قضا و قدر الٰہی پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے اور یہ نہ سمجھیں کہ انسان کی طرف سے یہ ایک ابتلا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک ابتلا ہے