نوٹ ۔ از مرتب: جیسا کہ دیگر متعدد خطوط سے ظاہر ہے ریاستی حقوق کے بارہ میںابتلا اواخر ۱۹۰۴ء میں شروع ہوا۔ ۱۳؍ نومبر ۱۹۰۶ء کو اس بارہ میں حضور کو الہام ہوا۔ ’’اے یوسف! اپنا رُخ اس طرف پھیر لے‘‘ اور ۱۶؍ فروری ۱۹۰۸ء کے حضرت نواب صاحب کے مرقومہ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ چند دن قبل اس بارہ میں اُن کو اور ان کے بھائیوں کو کامیابی ہوئی تھی۔ حضور کے مکتوب ہذا کی اندرونی شہادت واضح ہے کہ اس کی تحریر تک ۱۳؍ نومبر ۱۹۰۶ء والا الہام نہ ہوا تھا ورنہ دیگر نصائح کے ساتھ حضور تسلی کی خاطر اس امر کا اشارۃً ہی ذکر فرما دیتے بلکہ اس الہام کے ہو جانے کے بعد طبعاً حضرت نواب صاحبؓ کا رکب و قلق کم ہو جاتا۔ سو جب ۱۳؍ نومبر ۱۹۰۶ء کی تاریخ ہی ابھی نہیں آئی تھی تو دو دن بعد (۱۵؍ نومبر) کے الہام ’’قادر ہے وہ بارگاہ…الخ‘‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ظاہر ہے کہ ۱۵؍ نومبر ۱۹۰۶ء والا الہام یہاں مراد نہیں۔ اس پر مزید اندرونی شہادت بھی ہیں ایک تو یہ کہ ’’قادر ہے‘‘ والے الہام کے متعلق حضور تحریر فرماتے ہیں کہ مدت قبل کا ہے جو یہاں صادق نہیں آتی۔ دوسرے اسے ایک معین شخص کے لئے قرار دیتے ہیں جب کہ اس اور دیگر الہامات کے ساتھ مرقوم ہے ’’اصل میں یہ ہرسنہ الہام پیشگوئیاں ہیں خواہ ایک شخص کیلئے ہوں اور خواہ تین جدا شخصوں کے حق میں ہوں‘‘۔ (بدر جلد۲ صفحہ۴۷ والحکم جلد۲۰ صفحہ۳۹)
تیسرے ۱۵؍نومبر ۱۹۰۶ء والے الہام کی عبارت یہ ہے:۔
’’قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے‘‘ اور مکتوب زیر بحث میں ’’جو‘‘ کا لفظ موجود نہیں۔ ان شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں الہاموں میں سے مدت قبل یعنی ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۸ء کا الہام مراد ہے جو معین طور پر حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس کے لئے ہوا تھا اور اس میں ’’جو‘‘ کا لفظ بھی موجود نہیں سو یہ مکتوب زیر بحث اواخر ۱۹۰۴ء سے ۱۳؍ نومبر ۱۹۰۶ء تک کے عرصہ کا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ اس عرصہ کے آخری حصہ کا ہے جب کہ ریاست کے پولیٹکل ایجنٹ