نے کسی کے ہاتھ میں (نہیں٭) رکھی۔ بلکہ جب کہ وقت آ جاتا ہے تو آسمان سے وہ حالت دل پر اُترتی ہے۔ میں کوشش میں ہوں اور دعا میں ہوں کہ وہ حالت آپ کے لئے پیدا ہو اور امید رکھتا ہوں کہ کسی وقت وہ حالت پیدا ہو جائے گی اور میں نے آپ کی سبکدوشی کیلئے کئی دعائیں کی ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ خالی نہ جائیں گی۔ جس قدر آپ کے لئے حصہ تکالیف اور تلخیوں کا مقدر ہے
٭ خطوط واحدانی والا لفظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہے۔
اُس کا چکھنا ضروری ہے بعد اس کے یکدفعہ آپ دیکھیں گے کہ نہ وہ مشکلات ہیں اور نہ وہ دل کی حالت ہے۔ اعمال صالحہ جو شرط دخول جنت ہیں دو قسم کے ہیں اوّل وہ تکلیفات شرعیہ جو شریعت نبویہ میں بیان فرمائی گئیں ہیں اور اگر کوئی ان کے ادا کرنے سے قاصر رہے یا بعض احکام کی بجا آواری میں قصور ہو جائے اور وہ نجات پانے کے پورے نمبر نہ لے سکے تو عنایت الٰہیہ نے ایک دوسری قسم بطور تتمہ اور تکملہ شریعت کے اُس کے لئے مقرر کر دی ہے اور وہ یہ کہ اُس پر کسی قدر مصائب ڈالی جاتی ہیں اور اُس کو مشکلات میں پھنسایا جاتا ہے اور اس قدر کامیابی کے دروازے اُس کی نگہ میں ہیں سب کے سب بند کر دئے جاتے ہیں۔ تب وہ تڑپتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ شاید میری زندگی کا یہ آخری وقت ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ اور مکروہات بھی اور کئی جسمانی عوارض بھی اُس کی جان کو تحلیل کرتے ہیں تب خدا کے کرم اور فضل اور عنایت کا وقت آ جاتا ہے اور درد انگیز دعائیں اُس قفل کے لئے بطور کنجی کے ہو جاتی ہیں۔ معرفت زیادہ کرنے اور نجات دینے کیلئے یہ خدائی کام ہیں۔ مدت ہوئی ایک شخص کے لئے مجھے انہی صفات الٰہیہ کے متعلق یہ الہام ہوا تھا۔
قادر ہے وہ بار گاہ ٹوٹا کام بناوے۔بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے دن اہل مصائب کو بڑے بڑے اَجر ملیں گے تو جن لوگوں نے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں دیکھی وہ کہیں گے کہ کاش ہمارا تمام جسم دنیا میں قینچیوں سے کاٹا جاتا تا آج ہمیں بھی اَجر ملتا۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ