ڈھانک لیتا ہے۔ اُس پر جہاں تک ممکن ہو توکل رکھو اور اپنے کام اُس کو سونپ دو۔ اُس سے اپنی بہبودی چاہو مگر دل میں اُس کی قضاء وقدر سے راضی رہو۔ چاہئے کہ کوئی چیز اُس کی رضا سے مقدم نہ ہو۔ میں آپ کے لئے بہت دعا کرتا ہوں اور کروں گا اور اگر مجھ کو معلوم ہوا تو آپ کو اطلاع دوں گا۔ آپ درویشانہ سیرت سے ہر یک نماز کے بعد گیارہ دفعہ لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم پڑھیں اور رات کو سونے کے وقت معمولی نماز کے بعد کم سے کم اکتالیس دفعہ درود شریف پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھیں اور ہر ایک سجدہ میں کم سے کم تین دفعہ یہ دعا پڑھی یاحی یا قیوم برحمتک استغیث۔ پھر نماز پوری کر کے سلام پھیر دیں اور اپنے لئے دعا کریں اور مرزاخدا بخش کو کہہ چھوڑیں کہ جلد جلد مجھے اطلاع دیویں۔ دہلی میں آ کر میری طبیعت بہت علیل ہوگی ہے اس وقت خارش کی پھنسیاں ایسی ہیں جیسے شاخ کو پھل لگا ہوا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بخار بھی رہا ریزش بھی بشدت ہوگئی طبیعت ضعیف اور کمزور ہے لیکن میں نے نہایت قلق کی وجہ سے نہ چاہا کہ آپ کے خط کو تاخیر میں ڈالوں۔ خدا تعالیٰ آپ کے غم و درد دُور کرے اور اپنی مرضات کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین والسلام خاکسار غلام احمد از دہلی کوٹھی نواب لوہارو و غلام احمد۱؎ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۲۵/۸۸ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ آپ کے ترددات اور غم اور ہم انتہا تک پہنچ گیا ہے اس لئے بموجب مثل مشہور کہ ہر کمالے راز والے۔ امید کی جاتی ہے کہ اب کوئی صورت مخلصی کی اللہ تعالیٰ پیدا کر دے گا اور اگر وہ دعا جو گویا موت کا حکم رکھتی ہے اپنے اختیار میں ہوتی تو میں اپنے پر آپ کی راحت کے لئے سخت تکالیف اُٹھا لیتا۔ لیکن افسوس کہ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے ایسی دعا خداتعالیٰ