نیز ربیع الثانی کی تاریخ ۲۲ اور ۲۳ دونوں پڑھی جا سکتی ہیں۔ جنتری کی رو سے ۲۲ چاہئے۔ اس سوال کا کہ دونوں میں کونسی مسجد البیت اس مکتوب میں مراد ہے یہ جواب ہے کہ خاکسار مرتب کے نزدیک وہ مسجد البیت مراد ہے جسے بیت الدعا بھی کہتے ہیں۔ گو الحکم نے اپنے پرچہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء میں جہاں اس کی تکمیل کا ذکر کیا ہے اسے صرف بیت الدعا لکھا ہے۔ غالباً اس کا یہ نام مسجد البیت نام پر غالب آ کر زیادہ متعارف و شائع ہو گیا ہو۔ چنانچہ سوائے البدر کے مذکورہ بالا حوالہ کے اس کا نام مسجد البیت سلسلہ کے لٹریچر میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی ان صحابہ کرام کو اس کا علم ہے جن کو دارالمسیح میں حضور کے عصرِ سعادت میں قیام رکھنے کا موقعہ ملا نہ ہی حضور کے خاندان میں اس نام کا علم ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپریل ۱۹۵۰ء میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو اور مارچ ۱۹۵۰ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم نے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کو خطوط لکھے ان میں بھی بیت الدعا کانام ہی آتا ہے۔ (ضمیمہ اصحاب احمد جلد اوّل صفحہ۲۲ و مکتوبات اصحاب احمد جلد اوّل صفحہ۵۷) بیت الدعا بھی مسجد البیت ہے کیونکہ حضور نے اسے اسی نام سے اس مکتوب میں پکارا ہے۔ حدیث شریف میں جعلت لی الارض مسجدا آتا ہے گویا کہ ہر جگہ نماز پڑھی جا سکتی ہے خواہ بغیر جماعت کے ہو اور ایک مکفوف العین صحابیؓ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں انہوں نے عرض کی کہ حضور میرے گھر کے کسی حصہ میں دعا فرمائیں یا میں اس جگہ کو مسجد بنا لوں سو اس کو مسجد البیت کہتے ہیں۔ بیت الدعا خلوت میںدعائیں کرنے کے لئے بنائی گئی اس لئے اسے کھلا اور وسیع نہیں بنایا گیا ورنہ اگر وہ بھی باجماعت نماز اداکرنے کیلئے استعمال میں لانی ہوتی تو کھلی بنائی جاتی۔ لیکن بیت العافیۃ والی مسجد البیت کی غرض ہی یہ تھی کہ جب حضور علالت کے باعث مسجد میں نہ جا سکیں تو وہاں مستورات