کریں۔ مجھے بھی امراض دامن گیر ہیں تین اوپر کے حصہ میں اور دو نیچے کے حصہ میں۔ مگر میں امید کی قوت سے جیتا ہوں۔ اگر امید نہ ہو تو ہم ایک دم میں مر جائیں۔ سو آپ تسلی رکھیں۔ جس طرح کوئی اپنے عزیز بچوں کے لئے دعا کرتا ہے ایسا ہی آپ کے لئے کروں گا خدا تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اورغموم ہموم کے گرداب سے نجات بخشے۔ آمین کبھی کبھی چند قدم ہوا خوری بھی کر لیا کریں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ (ب) نوٹ از مرتب: البدر بابت ۲۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء میں (صفحہ۷۲ پر) مرقوم ہے کہ ’’بعد نماز جمعہ مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس نے تجویز فرمایا کہ چونکہ بیت الفکر میں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آ جاتے ہیں اور دعا کا موقعہ کم ملتا ہے اس لئے ایک ایسا حجرہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جاوے جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجائش ہو اور چارپائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کوئی اور نہ آ سکے اس طرح سے مجھے دعا کیلئے عمدہ وقت اور موقعہ مل سکے گا چنانچہ اس وقت مغربی جانب جو دریچہ ہے اس کے ساتھ حجرے کیلئے عمارت شروع ہوگئی‘‘۔ البدر بابت ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء میں (صفحہ۷۷ پر) مرقوم ہے کہ ’’۲۰ مارچ کے البدر میں جس حجرہ دعائیہ کی ہم نے خبر دی ہے اس کا نام حضرت احمد مرسل یزدانی نے مسجد البیت و بیت الدعا تجویز فرمایا ہے‘‘۔ دارالمسیح کے ایک چوبارہ کانام بیت العافیۃ ہے جو اس کے برآمدہ کی پیشانی پر مرقوم ہے۔ اس برآمدہ کی مغربی دیوار کے اندرونی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے یہ الفاظ سیاہی سے مرقوم ہیں ’’مسجد البیت ۴؍ جون ۱۹۰۷ء مطابق ۲۲؍ ربیع الثانی‘…‘ اس وقت سن ہجری ۱۳۲۵ تھا وہی مرقوم ہوگا لیکن اب پڑھا نہیں جا سکتا۔