اور بچوں کو ساتھ شامل کر کے با جماعت نماز ادا کر لیا کریں اس لئے اس کے واسطے کھلی نہ کہ تنگ جگہ تجویز کی گئی اور وہ کھلی جگہ یعنی برآمدہ ہے جو سارا یکساں کھلا ہے اور وہاں دعاؤں کے لئے خلوت اور یکسوئی کا کوئی موقعہ نہیں۔ سو یہ اندرونی شہادت بہت وزنی ہے حضور نے اپنے مکتوب میں مسجد البیت کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ اس میں خلوت میسر آئے گی ورنہ باقی کا مکان کھلا ہے جس میں ہر طرف سے بچے اور عورتیں آتی رہتی ہیں اورخلوت میسر نہیں آتی اور یہ بات صرف بیت الدعا پر ہی صادق آتی ہے۔ پس یہ مکتوب ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۲ء کے قریب کا ہے۔ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے ساری تفصیل بالا کا راقم سے ذکر کیا ہے۔ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ٭٭٭ ۲۸ مئی ۱۹۰۳ء کو تعلیم الاسلام کالج کی افتتاح کارروائی کے اختتام پر حضرت نواب صاحبؓ نے حضور کی خدمت میں ذیل کا عریضہ تحریر کیا۔ (مرتب) ۱۸/۸۱ سیدی و مولائی حبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ حضور کی طبیعت نصیب اعداء علیل ہے اس لئے حضور تشریف نہیں لا سکتے گو کہ اس سے ایک گونہ افسوس ہوا مگر وہ کلمات جو مولانا موصوف نے نیابتاً فرمائے ان سے روح تازہ ہوگئی اور خداوند تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعاؤں کے بھروسہ پر کارروائی شروع کی گئی۔ جلسہ نہایت کامیابی سے تمام ہوا اور کالج کی رسم افتتاح ہوگئی۔ اطلاعاً گزارش ہے خداوند تعالیٰ حضور کو صحت عطا فرمائے۔ حضور نے …… دعا فرمائی ہوگی۔ اب بھی استدعائے دعا ہے۔ راقم محمد علی خان جواباً حضور نے تحریر فرمایا:۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ رات سے مجھے دل کے مقام پر درد ہوتی تھی اس لئے