اُس میں پھونک دے۔ وہ لڑکیاں تو ہماری کمسن ہیں شاید ہم ان کو بڑی ہوتی دیکھیں یا عمر وفا نہ کرے۔ مگر یہ لڑکی جوان ہے ممکن ہے کہ ہم باطنی توجہ سے اس کی ترقی بچشم خود دیکھ لیں۔ پس جب کہ ہم ان کو لیکی بناتے ہیں تو پھر آپ کو چاہئے کہ……… ہماری لڑکی (کے٭) ساتھ زیادہ ہمدردی اور محبت اور وسیع اخلاق سے پیش آویں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: مکتوب ہذا و مکتوب ۷۸؍۱۵ کی تعیین تاریخ اس امر سے ہوتی ہے کہ صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ کی والادت ۲۸؍ جنوری۱۹۰۳ء اور وفات چند ماہ بعد کی ہے مکتوب سابق میں چار بجے کے بعد جلد صبح کی نماز کا وقت ہو جائے کا ذکر ہے یہ وقت اپریل مئی میں ہوتا ہے مکتوب ۷۸؍ ۱۵ کے آخر پر حضور نے تاریخ درج فرمائی ہے جو اب پوری طرح پڑھی نہیں جاتی کچھ یکم مئی ۱۹۰۳ء پڑھا جاتا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۱۷/۸۰ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ میں نے آپ کے اس خط پڑھنے کے وقت یہ محسوس کیا ہے کہ جس قدر امراض اور اعراض لاحق ہوگئے ہیں اکثر ان کی کثرت ہموم و غموم کا نتیجہ ہے۔ عجیب دردناک آپ کا یہ خط ہے کہ جس سے دل پر لزرہ پڑتا ہے لیکن جب میں خدا تعالیٰ کے کاموں پر نظر کرتا ہوں تو اُس کی قدرتوں پر نظر کر کے دل امید سے بھر جاتاہے۔ میں آپ کے لئے دعا تو کرتا ہوں لیکن دعا کی حقیقت پر نظر کر کے جو اپنے اختیار میں نہیں ہے مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک میں نے دعا نہیں کی ہے۔ سو میں نے اس خلوت کے لئے ایک مسجد البیت بنائی ہے میں امید رکھتا ہوں کہ اس مسجد البیت میں مجھے اُس خاص حالت کا موقعہ مل جائے گا کیونکہ میرا یہ مکان کھلا مکان ہے جس میں ہر طرف سے بچے عورتیں آتی رہتی ہیں اور خلوت میسر نہیں آتی۔ سو اب میں آپ کے لئے انشاء اللہ خاص طور پر دعا کروں گا۔ آپ غموں کے سلسلہ کو حوالہ خدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ خطوط واحدانی والا لفظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہے۔