دعا کرتے رہیں۔ میں آج بیمار ہوں زیادہ نہیں لکھ سکتا۔مرزا خدا بخش صاحب کا لیکا ابھی تک خطرناک حالت میں ہے۔ ظاہراً زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا ہے جان کندن کی سی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ رحم فرماوے۔ میرے ہاتھ میں چوٹ آگئی ہے اور تپ بھی ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء نوٹ از مرتب: اس تہنیتی مکتوب کی تاریخ ۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء میں سہو ہے۔ اہلیہ اوّل کی وفات کے بعد حضرت نواب صاحب نے مرحومہ کی بہن سے شادی کی تھی۔ مرحومہ ابھی زندہ زندہ تھیں کہ ۸؍ نومبر ۱۸۹۸ء کو حضو رنے ان سے حسن سلوک کی نواب صاحب کو تلقین فرمائی (مکتوب مندرجہ الحکم جلد۷ نمبر۳۲) اور مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم میں مندرجہ مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحومہ کے بطن سے ایک بچہ کے تولد پر حضور نے ۱۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء کو مبارکباد کا خط تحریر فرمایا۔ (۱۹) گو ۸؍نومبر ۱۸۹۸ء کو مرحومہ کی وفات پر بھی حضور کا خط لکھنا درج ہے۔ (۲۵) لیکن یہ تاریخ درست درج نہیں ہوئی دارصل ۱۸؍نومبر ۱۸۹۸ء ہے۔ ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء کو حضور نے نواب صاحب کو جلد تر شادی کرنے کی تاکید فرمائی۔ (مکتوب نمبر۲۴) اس لئے یہ زیر بحث تہنیتی مکتوب ۲۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء کا ہی ہو سکتا ہے۔ ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۱۴/۷۷ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ اس سے پہلے جواب آں محب بھیجا گیا ہے جواب کا منتظر ہوں کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے مجھے آپ کے لئے خاص توجہ خدا نے پیدا کر دی ہے۔ میں دعا میں مشغول ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تمام تردّدات سے محفوظ رکھ کر کامیاب فرماوے۔ آمین۔ اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب قادیان میں تشریف رکھتے ہیں اور اپنے وطن سے بغیر بندوست مصارف عیال کے ضرورتاً امرتسر میں آگئے تھے اور پھر قادیان