آئے۔ ان کی تمام عیالداری کے مصارف محض آپ کی اُس وظیفہ سے چل رہے ہیں جو آپ نے تجویز فرما رکھا ہے۔ اگرچہ ایسے امور کو لکھتے لکھتے جب آپ کی وہ مالی مشکلات یاد آ جاتی ہیں جن کے سخت حملہ نے آپ پر غلبہ کیا ہوا ہے تو گو کیسی ہی ضرورت اور ثواب کاموقعہ ہو پھر بھی قلم یکدفعہ اضطراب میں پڑ جاتی ہے لیکن بایں ہمہ جب میں دیکھتا ہوں کہ میں آپ کے لئے حضرتِ احدیّت میں ایک توجہ کے ساتھ مصروف ہوں اور میں ہرگز امید نہیں رکھتا کہ یہ دعائیں خالی جائیںگی تب میں ان چھوٹے چھوٹے امور کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس قسم کے خیال قبولیتِ دعا کے لئے راہ کو صاف کرنے والے ہیں یہ تجربہ شدہ نسخہ ہے کہ مشکلات کے وقت حتی الوسع اُن درماندوں کی مدد کرنا جو مشکلات میں گرفتار ہیں دعاؤں کے قبول ہونے کا ذریعہ ہے۔ مولوی سید محمد احسن صاحب گذشتہ عمر تو اپنے محنت بازو سے بسر کرتے رہے۔ اب کوئی بھی صورت معاش نہیں۔ درحقیقت عیالداری بھی ایک مصیبت ہے۔ میں ان تردّدات میں خود صاحب تجربہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک مشکل کے وقت جب کہ مہینہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر نئے سرے ایک مہینے کیلئے دو سَو روپیہ کے آرد خشکہ اور دوسرے اخراجات کا فکر ہوتا ہے جو معمولی طور پر ۱۰۰۰ کے قریب قریب ماہوار ہوتے رہتے ہیں تو کئی دفعہ خیال آتا ہے کہ کیسے آرام میں وہ لوگ ہیں جو اس فکرو غم سے آزاد ہیں اور پھر استغفار کرتا ہوںاور یقینا جانتا ہوں کہ جو کچھ مالک حقیقی نے تجویز فرمایا ہے عین صواب ہے۔ سو درحقیقت خانہ داری کے تفکرات جان کو لیتے ہیں۔ لہٰذا مکلّف ہوں کہ آپ پھر یہ ثواب حاصل کریں کہ جو کچھ وظیفہ آپ نے مولوی صاحب موصوف کا مقرر فرما رکھا ہے اس میں سے مبلغ …۲۰ ان کے نام قادیان میں بھیج دیں اور باقی اُن کے صاحبزادہ کے نام جس کا نام سید محمد اسماعیل ہے بمقام امروہہ شاہ علی سرائے روانہ فرما دیں۔ خدا تعالیٰ جزائے خیر دے گا اور میرے نام جو آں محب نے روپیہ بھیجا تھا وہ پہنچ گیا تھا۔ جزاکم اللّٰہ خیراً والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۰۰ء