مگر مارچ ۱۸۹۶ء کے مکتوب کی تاریخ کے ساتھ کھینچا ہے اس مکتوب سے یہ تو ظاہر ہے کہ حسین کامل سفیر ترکی کے قادیان آنے کے بعد کاہے۔ اس کی آمد کی معین تاریخ معلوم ہونے سے اس مکتوب کی تاریخ کی صحت کا علم ہو سکتا ہے۔ حضور کے ایک اشتہار سے صرف اس قدر علم ہو سکا ہے کہ اس نے قادیان سے واپسی کے بعد شیعہ اخبار ناظم الہند لاہور بابت ۱۵؍ مئی ۱۸۹۷ء میں حضور کی نسبت نامناسب باتیں شائع کی تھیں۔ ۱؎ اصل مکتوب میںنیا پیرا نہیں۔ چونکہ اگلا مضمون الگ ہے اس لئے یہاں نیا پیرا شروع کر دیا گیاہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۷/۷۰ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کو معلوم ہوگا کہ مولوی صاحب کے پانچ لڑکے ہو کر فوت ہوگئے ہیں اب کوئی لڑکا نہیں۔ اب دوسری بیوی سے ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے اس صورت میں مَیں نے خود اس بات پر زور دیاکہ مولوی صاحب تیسری شادی کر لیں چنانچہ برادری میں بھی تلاش درپیش ہے۔ مگر میاں نور محمد کہیر والے کے خط سے معلوم ہوا کہ ان کی ایک ناکد خدا لڑکی ہے اور وہ بھی قریشی ہیں اور مولوی صاحب بھی قریشی ہیں اس لئے مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگر وہ لڑکی عقل اور شکل اور دوسرے لوازم زمانہ میں اچھی ہو تو وہیں مولوی صاحب کے لئے انتظام ہو جائے۔ اپس اس غرض سے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے کہ آپ کوئی خاص عورت بھیج کر اُس لڑکی کے تمام حالات دریافت کرا دیں اور پھر مطلع فرماویں اور اگر وہ تجویز نہ ہو اور کوٹلہ میں آپ کی نظر میں کسی شریف کے گھر میں یہ تعلق پیدا ہو سکے تو یہ بھی خوشی کی بات ہے کیونکہ اس صورت میں مولوی صاحب کو کوٹلہ سے ایک خاص تعلق ہو جاوے گا۔ مگر یہ کام جلدی کا ہے اس میں اب توقف مناسب نہیں۔ آپ بہت جلد اس کام میں پوری توجہ کے ساتھ کارروائی فرماویں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۶؍ جون ۱۸۹۷ء