اطلاع دی گئی تھی کہ علاوہ حساب اس جگہ کے جو چند ہفتوں کا بابت قیمت اینٹ و اُجرت معماران واجب الادا ہے مبلغ اسی روپیہ اور بابت لکڑی کے ہمارے ذمہ نکل آئے ہیں اگر بالفعل ایک سَو روپیہ اور پہنچ جائے تو چند ہفتہ تک پھر اس کشاکش سے مخلصی رہے۔ یہ عمارت کا کام ہے ایسی ہی تکالیف ساتھ رکھتا ہے۔ میرا دل پہلے سے رکتا تھا کہ اِس کو شروع کروں مگر قضاء و قدر سے شروع ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ اب اس کو انجام دیوے۔ دوسری منزل جو اصل مقصود تھی وہ بالفعل بباعث عدم سرمایہ ملتوی رہے گی آئندہ اللہ تعالیٰ جو چاہے ہوگا۔
کل۱؎ آں محب کا خدمت گار پہنچا۔ سفیر نے خود آرزو کی تھی کہ میں مالیر کوٹلہ دیکھوں۔ مجھے اس کی حقیقت پر اطلاع نہیں کہ وہ کیوں پھرتا ہے اور اس شہر بشہر کے دورہ سے اُس کی غرض کیا ہے اور میں اُس کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ قواعد ریاست سے اِدھر اُدھر نہ ہوں اور سرکاری ہدایت کے پابند رہیں۔ شاید اگر مسافروں کی طرح آ جائے تو قومیت کے لحاظ سے معمولی خاطر داری میں مضائقہ نہیں مگر جو ریاست کی طرف سے اعزاز ہوتا ہے وہ کسی صورت میں بغیر اجازت گورنمنٹ نہیں چاہئے تا خواہ نخواہ اعتراض نہ ہو اور کوئی امتحان پیش نہ آوے بلکہ قوانین کی رعایت سے معمولی اخلاق کا برتاؤ کچھ مضائقہ نہیں۔
کریماں مسافر بجاں بردر اند
کہ نام نکو شاں بعالم برند
میں اس شخص کے اصل حالات سے واقف نہیں کہ کس طبیعت اور چال چلن کا آدمی ہے۔ظاہراً ایک دنیا دار پولیٹکل مَین ہے۔ روحانیت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ واللّٰہ اعلم بالصواب
والسلام
خاکسار۔غلام احمد عفی عنہ
۱۱؍ مئی ۱۸۹۷ء
نوٹ از مرتب: تاریخ یکم مئی ہے یا ۱۱؍ مئی۔ حضور بعض جگہ تاریخ کے ساتھ خط بشکل خط ڈالتے ہیں بعض جگہ نہیں اگر یہ خط سمجھا جائے تو یکم مئی ہے ورنہ ۱۱؍ مئی، ۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء کے مکتوب میں یہ خط حضور نے نہیں کھینچا