والے اشتہار کے چھپ جانے کا ذکر ہے اور ابھی انوارالاسلام کی صرف تصنیف ہوئی تھی طباعت نہ ہوئی تھی اور اشتہار دو ہزاری بھی ابھی معرض وجود میں نہ آیا تھا۔ سو مکتوب زیر بحث بھی اشتہار ایک ہزاری کے شائع ہونے کی تاریخ (۹؍ ستمبر ۱۸۹۴ء) اور اشتہار انعام دو ہزار کی تاریخ (۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ء) کے مابین عرصہ کا ہے۔ ۱؎ یہ لفظ اصل مکتوب میں خاکسار سے پڑھا نہیں گیا اندازاً نگاہ سمجھا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۵ ۶۸ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ مبلغ… ۲۵۰ مرسلہ آں محب عین وقت ضرورت مجھ کو پہنچ گئے۔ جزاکم اللّٰہ خیرا۔ باقی بفضلہ تعالیٰ سب خیریت ہے۔ ان دونوں میں جو شغل ہے اُن امور میں سے ایک یہ ہے کہ یہ عاجز یورپ اور جاپان کے لئے ایک تالیف کر رہا ہے جس میں علاوہ اسلامی تعلیم کے قرآنی تعلیم اور انجیل تعلیم کا مقابلہ کر کے دکھلایا جائے گا اور نیز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اخلاق کا مقابلہ ہوگا۔ دوسرے یہ امر ہے کہ منن الرحمن کسی قدر چھپ کر رہ گیا ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے بھی فکر کیا جاتا ہے اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سب مقاصد انجام پذیر ہو جائیں گے کہ ہر ایک قدرت اُسی کو ہے۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۱۷؍ مارچ ۱۸۹۶ء بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۶/۶۹ محبی عزیزی نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بقیہ دو قطعہ نوٹ سَو سَو روپیہ آج کی ڈاک میں مجھ کو پہنچ گئے۔ جزاکم اللّٰہ خیراً پہلے اس سے بذریعہ ایک خط کے آپ کی خدمت میں