کادوا ان یھلکوا یعنی قریب تھا کہ اُس ابتلاء سے ہلاک ہو جائیں۔ یہی ہلاک کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے آپ نے استعمال کیا تھا۔ گویا اس بے قراری کے وقت میں حدیث کے لفظ سے توارد ہو گیا ہے بشریٰ کمزوری ہے جو عمر فاروقؓ جیسے قوی الایمان کو بھی حدیبیہ کے ابتلا میں پیش آ گئی تھی یہاں تک کہ اُنہوں نے کہا کہ عملت لذالک اعمالا یعنی یہ کلمہ شک کا جو میرے منہ سے نکلا تو میں نے اس قصور کا تدارک صدقہ خیرات اور عبادت اور دیگر اعمال صالحہ سے کیا۔ مولوی محمد احسن صاحب ایک جامع رسالہ بنانے کی فکر میں ہیں شاید جلد شائع ہوا اور مولوی صاحب یعنی مولوی حکیم نورالدین صاحب آپ سے ناراض نہیں آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ شاید مولوی صاحب کو بشریت سے یہ افسوس ہوا ہوگا کہ آپ اوّل درجہ کے اور خاص جماعت میں سے تھے۔ آپ کے نزدیک یہ خیال تک آنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ ہمارے غائبانہ نگاہ۱؎ میں آپ اوّل درجہ کے محبوں اور مخلصوں میں سے ہیں۔ جن کی روز بروز ترقیات کی امید ہے اور مولوی صاحب اپنے گھر کی بیماریوں کی وجہ سے بڑے ابتلا میں رہے ہیں اور ان کے گھر کے لوگ مر مر کے بچے ہیں اس لئے وہ زیادہ خط و کتابت نہیں کر سکے اور اب وہ شاید بیس روز سے سندھ کے ملک میں ہیں اور پھر غالباً بہاولپور میں جائیں گے اور اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب شاید ہفتہ عشرہ تک یہاں پر تشریف رکھتے ہیں اور اس عاجز کا نیک ظن اور دلی محبت آپ سے وہی ہے جو تھی اور امید رکھتا ہوں کہ دن بدن ترقی ہو۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: آتھم کے متعلق پیشگوئی کی میعاد ۴؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ختم ہوئی۔ اس پیشگوئی پر حضرت نوابؓ صاحب کو ابتلا آیا اور حضور کی خدمت میں ۷؍ ستمبر کو ایک خط لکھا جس کا جواب حضور نے جو تحریر فرمایا۔ حضرت عرفانی صاحب کے شائع کردہ مکتوباب احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم میں ساتویں نمبر پر ہے جس کے جواب میں نواب صاحب نے جو کچھ لکھا پھر اس کے جواب میں حضور نے مکتوب ہذا تحریر فرمایا مکتوب نمبر۷ میں ایک ہزاری انعام