خوف کے دنوں میں حق کی طرف رجوع کرنا مانع نزولِ عذاب ہے خدا تعالیٰ کئی جگہ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں قوم کا عذاب جو مقرر ہو چکا تھا ان کے خائف اور رجوع بحق ہونے کی وجہ سے ٹال دیا حالانکہ ہم جانتے تھے کہ پھر وہ امن پا کر کفر اور سرکشی کی طرف عود کریں گے۔ پھر جب کہ یہ امر ایک مسلم فریقین اور قطع نظر تسلیم فریقین کے شرط میں داخل ہے تو ایک منصف کے نزدیک اس کا تصفیہ ہونا چاہئے اور جب کہ صورت تصفیہ بجز آتھم صاحب کی قسم اور آسمانی فیصلہ کے اور کوئی نہیں تو اس طریق سے گریز کرنا حق سے گریز ہے۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
۲۲؍ اگست ۱۸۹۴ء
نوٹ از مرتب: دو ہزار انعام والے اشتہار کی تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ء تھی بلکہ آتھم والی پیشگوئی کی میعاد ہی ۴؍ ستمبر کو ختم ہوئی تھی اس لئے یہ مکتوب ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے گو سہواً اس پر ۲۲؍ اگست کی تاریخ درج ہوئی ہے۔
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۴
۶۷
محبی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
آں محب کا محبت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے اپنی محبت اور اخلاص کے جوش سے لکھا ہے درحقیقت مجھ کو یہی امید تھی اور میرے ظاہری الفاظ صرف اس غرض سے تھے کہ تا میں لوگوں پر یہ ثبوت پیش کروں کہ آں محب نے اپنے دلی خلوص کی وجہ سے نہایت استقامت پر ہیں۔ سو الحمدللہ کہ میں نے آپ کو ایسا ہی پایا۔ میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اس جہاں کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دارالسلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھاوے اور جو ابتلا پیش آیا تھا وہ حقیقت میں بشریٰ طاقتوں کو اگر وہ سمجھنے سے قاصر ہوں معذور رکھتاہے۔ حدیبیہ کے قصہ میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ صحابہ کو ایسا ابتلا پیش آیا کہ