(نوٹ) اس مکتوب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے نام خط کاذکر ہے اور اس کے بعد نمبر ۲۴ میں وہ خط بھی سلسلہ میں درج کر دیا ہے۔ واقعات کے متعلق مزید واقفیت کی غرض سے میں یہاں صاحبزادہ سراج الحق صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان بھی درج کردینا ضروری سمجھتا ہوں اس سے مولوی رشید احمد صاحب کی مباحثہ پر آمادگی اور پھر فرار کے اسباب اور محرکات کا پتہ لگ جائے گا۔ ۲۴/۵۲ مخدوم مکرم معظم مولوی رشید احمد صاحب سلمہٰ تعالیٰ السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا عرض خدمت ہے کہ صاحبزادہ سراج الحق نے آپ کا خط امجنبسہ میرے پاس بھیج دیا حرف بحرف ملا خط کیا گیا۔ آپ جو اس عاجز کو واسطے بحث کے سہار نپور بلاتے ہیں مجھ کو کچھ عذر نہیں مگر اتنی بات خدمت میں عرض کرنی ہے کہ امن قائم کرنے کے واسطے آپ نے کیا بندوبست کیا ہے ڈپٹی کمشنر صاحب کی تحریری اجازت ہونی ضروریات سے ہے اور مجالس بحث میں سپرنڈنٹٹ یا اور کسی حاکم با اختیار کا ہونا بھی امر ضروری ہے بنا برین اس قسم کی تسلی بخش تحریر ہمارے پاس بھیج دیں تو بندہ واسطے بحث کے حاضر خدمت ہو جائے گا۔ اگرلاہور آپ تشریف لے چلیں تو تسلی بخش تحریر امن قائم کرنے کی آپ کے پاس ہم بھیج دیں پس اس تحریر کے جواب میں جیسا آپ مناسب سمجھیں اطلاع دیں۔ راقم غلام احمد بقلم عباس علی