جو کچھ اُس کے حق میں خیر یا شر مقدر ہے یا جو کچھ اُ س کے امر کا انجام کار ہے اُمید قوی ہے کہ …ظاہر ہو جاوے لیکن یہ جد وجہد کا کام ہے شاید ہفتہ عشرہ اس طرف مشغول اور توجہ کرنی پڑے سو توجہ بھی سخت محنت پر موقوف ہے ہرایک کے لئے نہیں ہوسکتی اورناحق کی تضیع اوقات معصیت میں داخل ہے ہاں ایسے شخص سے اگر کوئی دینی امداد پہنچ جائے اور وہ کوئی ہدیہ امدادی فی سبیل اللہ داخل کر سکے تو محنت ہو سکتی ہے ورنہ نہیں سو اُس ہندو کو آپ سمجھا دیں کہ اگر وہ اپنے نفس میں طاقت پاتا ہے اورحسب حیثیت امداد دین میں خدمت بجا لا سکتا ہے تو اُس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں اُس توجہ میں اگرچہ غالب امید استجابت دعا ہے لیکن اگر ناکامی کے لئے تقدیر مبرم ہے تو پھر مجبوری ہو گی زیادہ خیریت
والسلام
راقم خاکسار
غلام احمداز قادیان ضلع گورداسپور۲۵؍اکتوبر ۱۸۹۰ء
۲۲/۵۰ محبی مکرمی اخویم صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمہٰ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مدت دراز کے بعد عنایت پہنچا اب یہ عاجز قادیان میں ہے اور انشاء اللہ القدیر ابھی رہائش قادیان میں ہی ہے یہ عاجز آپ کے اخلاص اور محبت کا نہایت شکر گزار ہے اور خدا تعالیٰ سے بھی امید رکھتا ہے کہ آپ سے ہر ایک ابتلاء میں اوّل درجہ استقلال اور ثابت قدمی ظہور میں آتی رہے گی۔ آپ کے نواح کے طرف اگر کسی نے یہ خبر مشہور کی ہے کہ گویا اس عاجز نے دعوی مسیح موعود سے