اور یہ عاجزاس وقت بسبب بیمار رہنے کے ایک عرصے تک جدوجہد سے مجبور ہے۔ میرا کوئی ایسا اشتہار نہیں ہے جو موافق خیال ہندو مذکور کے ہو یعنی یہ کہ جو کچھ وہ خواہش کرے اس کی خواہش کے مطابق کوئی خرق عادت خدا وند کریم ظاہر فرما دے بلکہ اشتہاریہی ہے کہ جیسا خداوند کو منطور ہو کوئی خرق عادت ظہور میں آئے گا جو انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔ طلب اسلام میں بدید خرق عادت کے اسی خرق عادت کا طالب ہونا جس کو مدعی خود درخواست کرے اور کسی دوسرے امر پر تابع نہ ہو جو خدا کریم کی مرضی سے ظاہر ہو ایک قسم کی ہٹ دھری ہے اگر اس کو اسلام کی خواہش ہے اور وہ میرے اشتہار کے مضمون پر بہ تحمل آنا چاہتا ہے تو اس کی تسلی کے واسطے میں تیار ہوں اور اگر وہ دنیا طلبی کے پیرا یہ میں دین کا طالب ہونا چاہتا ہے یہ امر اگرچہ محالات سے نہیں ہے مگر تاہم مشکلات سے معلوم ہوتا ہے امید ہے کہ آپ نے بھی اشتہار شرطیہ کو دیکھا ہو گا اور اس لئے بھی آپ اس کو اس کامطلب اچھی طرح پر سمجھا دیں پھر اگر اس کو خواہش سچی ہو تو وہ اپنی تسکین کر سکتا ہے علی من اتبع الھدی۔ زیادہ زیادہ
والسلام
خاکسار
غلام احمد ازقادیان
۷؍ نومبر ۹۰ء
۱۹/۴۷ از عاجز باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم صاحبزادہ سراج الحق سلمہٰ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ واقعہ وفات آپ کی والدہ ماجدہ سے حزن واندوہ ہوا
انا للہ وانا الیہ راجعون خدا تعالیٰ