(نوٹ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ شکور خدا کے عبدشکور تھے۔ اس لئے اپنے خدام کی ہر خدمت کو نہایت عزت وقدر سے دیکھا کرتے تھے۔ معمولی سے معمولی کام بھی کوئی کرتا تو جزاکم اللہ احسن الجزا فرماتے اور اس کو قدر عزت کی نظر سے دیکھتے۔ اس چیز نے آپ کے صحابہ میں اخلاص کی ایک عملی روح پید اکردی تھی اور ایک صادق چاہتا تھا کہ خدمت کے لئے آگے بڑھے۔
صاحبزادہ سراج الحق صاحب اب ہمارے درمیان نہیں وہ خود ایک پیرزادہ تھے اور لوگوں سے نذرانہ لیتے اور ایسی فضاء میں ان کی تربیت اور اٹھان ہوئی تھی کہ خدمت اسلام کے لئے کچھ خرچ کرنے کا موقعہ نہ تھا۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے انہیں راہ حق دکھایا تو انہوں نے اپنے اخلاص کا ہر رنگ میں ثبوت دیا۔
جزاکم اللہ احسن الجزا۔
(عرفانی کبیر)
۹/۳۷ مخدومی مکرمی اخویم صاحبزادہ صاحب سراج الحق صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج عنایت نامہ پہنچ کر طبیعت کو نہایت بشاشت ہوئی اور خوشی ہوئی۔ خدا وند کریم آپ کے فرزند دل بند کی عمر دراز کرے اور آپ کے لئے مبارک کرے۔ آمین ثم آمین۔ آن مخدوم نے اوّل مجھ کو ہدیہ عمامہ خوب و عطر عمدہ بھیجا اور اب مہندی اور جوتہ کے لئے آپ نے لکھا ہے چونکہ مخص محبت اور اخلاص کی راہ سے آپ لکھتے ہیں اس لئے مجھے منظور ہے۔ یہ تاگا جوخط کے درمیان بھیجتا ہوں اس عاجز کے